کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا أَبُو تَوْبَةَ، ح قَالَ: وَأنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ وَاللَّفْظُ لَهُ نا أَبُو الْمُوَجِّهِ، نا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ قَالَا: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ أَبِي تَوْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ: " إِذَا حَرَّمَ امْرَأَتَهُ لَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ " وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ كَمَا رَوَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا، یہ قسم ہے، اس کا کفارہ دے، ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نمونہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرَامِ " يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا " وَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ " ⦗٥٧٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حرام کرنا قسم ہے، وہ اس کا کفارہ دے اور فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21]۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ: كُتِبَ إِلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْحَرَامُ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر خاوند بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے تو وہ قسم کا کفارہ دے گا۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حرام کے متعلق فرماتے ہیں: اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوتا ہے اور فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ یعنی نبی ﷺ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”آپ نے کیوں حرام کر لیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا تھا۔“ ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا ہے۔“ اس کا کفارہ قسم کا ہے اور حرام کہنے کو قسم کی مانند ٹھہرایا ہے۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حرام کے متعلق فرماتے ہیں: اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوتا ہے اور فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ یعنی نبی ﷺ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”آپ نے کیوں حرام کر لیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا تھا۔“ ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا ہے۔“ اس کا کفارہ قسم کا ہے اور حرام کہنے کو قسم کی مانند ٹھہرایا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا رَوْحٌ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا، فَقَالَ: " كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ثُمَّ تَلَا: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ عِتْقُ رَقَبَةٍ " لَفْظُ حَدِيثِ رَوْحٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ عَلَى التَّخْيِيرِ وَبِهِ نَقُولُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میں نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کر لیا ہے۔ فرماتے ہیں: تو نے جھوٹ بولا ہے، وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] اے نبی! آپ نے کیوں حرام کی جو اللہ نے آپ کے لیے حلال رکھا۔ آپ کے ذمہ سخت قسم کا کفارہ گردن کو آزاد کرنا ہے۔ ابونعیم کی حدیث میں ہے کہ آپ کے ذمہ سخت قسم کا کفارہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ تخییر کے بارے میں ہے۔
أَخْبَرَنَاه أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} [التحريم: ٢]، " أَمَرَ اللهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ إِذَا حَرَّمُوا شَيْئًا مِمَّا أَحَلَّ اللهُ أَنْ يُكَفِّرُوا عَنْ أَيْمَانِهِمْ بِإِطْعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ أَوْ كِسْوَتِهِمْ أَوْ تَحْرِيرِ رَقَبَةٍ وَلَيْسَ يَدْخُلُ فِي ذَلِكَ طَلَاقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قول ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کیا ہے۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے جب اللہ کی حلال کردہ چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں تو اس کا کفارہ قسم والا ہے؛ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا، اس میں طلاق داخل نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا قَالَ: " لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ " قَالَ: " أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى: {كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ} [آل عمران: ٩٣] " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ إِسْرَائِيلَ كَانَتْ بِهِ النَّسَا فَجَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ إِنْ شَفَاهُ اللهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ الْعُرُوقَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَيْسَتْ بِحَرَامٍ ".
حافظ ثناء اللہ
یوسف بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، انہوں نے فرمایا: وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا قول نہیں پڑھا: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ﴾ [سورة آل عمران: 93] ”اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال کر رکھے تھے مگر جو اسرائیل نے اپنے اوپر خود حرام کر لیے۔“
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک بیماری تھی، کہنے لگے: اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ہر قسم کا عرق اپنے اوپر حرام کر لیں گے، حالانکہ وہ حرام نہ تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک بیماری تھی، کہنے لگے: اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ہر قسم کا عرق اپنے اوپر حرام کر لیں گے، حالانکہ وہ حرام نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ " وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَقَالَ: " يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کا کفارہ قسم والا ہے۔
(ب) سعید بن ابی عروبہ بھی قسم والا کفارہ ادا کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں۔
(ب) سعید بن ابی عروبہ بھی قسم والا کفارہ ادا کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں۔
وَحَكَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ " فِي الْحَرَامِ إِنْ نَوَى بِهِ يَمِينًا فَيَمِينٌ، وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا فَطَلَاقٌ وَهُوَ مَا نَوَى مِنْ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حرام کہنے کے بارے میں اگر اس کی نیت قسم کی تھی تو قسم کا کفارہ دے، اگر نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہو جائے گی، نیت کا خیال رکھا جائے گا۔
وَرَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " نِيَّتُهُ فِي الْحَرَامِ مَا نَوَى إِنْ لَمْ يَكُنْ نَوَى طَلَاقًا فَهِيَ يَمِينٌ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر حرام کہنے میں نیت حرام تک محدود ہے تو وہ قسم کا کفارہ دے، اگر نیت طلاق کی نہ تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْإِمَامُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ قَالَا: أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، نا الْأَنْصَارِيُّ، نا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، " فِي الْحَرَامِ إِنْ نَوَى يَمِينًا فَيَمِينٌ، وَإِنْ نَوَى طَلَاقًا فَطَلَاقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
اشعث رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حرام کے بارے میں اگر قسم کی نیت ہے تو قسم مراد ہے اور اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق ہو گی۔
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ " فِي الْحَرَامِ إِنْ نَوَى طَلَاقًا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَمْلَكُ بِالرَّجْعَةِ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مخول بن راشد، ابو جعفر رحمہ اللہ سے حرام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، یعنی خاوند اپنی بیوی سے کہے کہ ”تو مجھ پر حرام ہے“ کہ اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی تو یہ ایک طلاق ہوگی اور خاوند رجوع کا حق رکھتا ہے اور اگر خاوند نے طلاق کی نیت نہیں کی تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔
قَالَ: وَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ⦗٥٧٦⦘ أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: " الْحَرَامُ يَمِينٌ " وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کہنا قسم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ " يَجْعَلُ الْحَرَامَ يَمِينًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کہنے کو قسم قرار دیتے تھے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا أَرُدُّهَا عَلَيْكَ " وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْبَرِيَّةِ وَالْبَتَّةِ وَالْحَرَامِ أَنَّهَا ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں۔ اس نے کہا کہ تو میرے اوپر حرام ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تیری بیوی کو تجھ پر نہ لوٹاؤں گا۔
(ب) حضرت علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ لفظ «بَرِيَّة»، «الْبَتَّةَ» اور «حَرَام» کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
(ب) حضرت علی اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ لفظ «بَرِيَّة»، «الْبَتَّةَ» اور «حَرَام» کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ مُجَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُجَالِدٍ الْبَجَلِيُّ بِالْكُوفَةِ نا مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، نا الْحَضْرَمِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ فِي الرَّجُلِ يَجْعَلُ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ حَرَامًا قَالَ: " يَقُولُونَ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا " قَالَ عَامِرٌ: مَا قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا إِنَّمَا قَالَ: لَا أُحِلُّهَا وَلَا أُحَرِّمُهَا، وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهَا ثَلَاثٌ إِذَا نَوَى إِلَّا أَنَّهَا رِوَايَةٌ ضَعِيفَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی سے مروی ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کو تین طلاقیں شمار کرتے تھے۔ عامر کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا تھا بلکہ فرمایا: نہ تو میں حلال کرتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب وہ نیت کرے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب وہ نیت کرے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آلَى وَحَرَّمَ " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] قَالَ: " فَالْحَرَامُ حَلَالٌ "، وَقَالَ فِي الْآيَةِ: {قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} [التحريم: ٢] هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
عامر، مسروق رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایلا کیا اور اپنے اوپر ماریہ رضی اللہ عنہا کو حرام قرار دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی ﷺ! آپ نے اللہ کی حلال کردہ اشیاء اپنے لیے حرام کیوں کیں۔“ فرماتے ہیں کہ حرام حلال ہے اور آیت میں ہے: ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا توڑنا ضروری کر دیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، نا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " آلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً " وَفِي هَذَا تَقْوِيَةٌ لِمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَفْظَ الْحَرَامِ لَا يَكُونُ بِإِطْلَاقِهِ يَمِينًا وَلَا طَلَاقًا وَلَا ظِهِارًا.
حافظ ثناء اللہ
مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلا کیا اور (انہیں) اپنے اوپر حرام کیا، پھر آپ ﷺ نے حرام کو حلال بنا دیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔
نوٹ: یہ اس شخص کے گمان کو تقویت دیتی ہے جو کہتا ہے کہ لفظِ حرام مطلق طور پر قسم، طلاق اور ظہار کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
نوٹ: یہ اس شخص کے گمان کو تقویت دیتی ہے جو کہتا ہے کہ لفظِ حرام مطلق طور پر قسم، طلاق اور ظہار کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: " مَا أُبَالِي إِيَّاهَا حَرَّمْتُ أَوْ مَاءً قُرَاحًا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کروں یا کوئی خالص چیز حاصل کروں جیسے کنویں کا ابتدائی پانی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " مَا أُبَالِي أَحَرَّمْتُهَا أَوْ قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَاللهُ أَعْلَمُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں عورت کو اپنے اوپر حرام کروں یا «ثَرِيد» کی پلیٹ کو۔ واللہ اعلم۔