حدیث نمبر: 15071
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، نا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " آلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً " وَفِي هَذَا تَقْوِيَةٌ لِمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَفْظَ الْحَرَامِ لَا يَكُونُ بِإِطْلَاقِهِ يَمِينًا وَلَا طَلَاقًا وَلَا ظِهِارًا.
حافظ ثناء اللہ

مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلا کیا اور (انہیں) اپنے اوپر حرام کیا، پھر آپ ﷺ نے حرام کو حلال بنا دیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔
نوٹ: یہ اس شخص کے گمان کو تقویت دیتی ہے جو کہتا ہے کہ لفظِ حرام مطلق طور پر قسم، طلاق اور ظہار کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15071
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»