السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ: كُتِبَ إِلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْحَرَامُ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ".عکرمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر خاوند بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے تو وہ قسم کا کفارہ دے گا۔
(ب) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حرام کے متعلق فرماتے ہیں: اس میں قسم کا کفارہ دینا ہوتا ہے اور فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ یعنی نبی ﷺ نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”آپ نے کیوں حرام کر لیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا تھا۔“ ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا ہے۔“ اس کا کفارہ قسم کا ہے اور حرام کہنے کو قسم کی مانند ٹھہرایا ہے۔