السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
حدیث نمبر: 15064
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الشُّرَيْحِيُّ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شَرِيكٌ، عَنْ مِخْوَلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ " فِي الْحَرَامِ إِنْ نَوَى طَلَاقًا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَمْلَكُ بِالرَّجْعَةِ، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلَاقًا فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ".حافظ ثناء اللہ
مخول بن راشد، ابو جعفر رحمہ اللہ سے حرام کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، یعنی خاوند اپنی بیوی سے کہے کہ ”تو مجھ پر حرام ہے“ کہ اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی تو یہ ایک طلاق ہوگی اور خاوند رجوع کا حق رکھتا ہے اور اگر خاوند نے طلاق کی نیت نہیں کی تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔