السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
حدیث نمبر: 15058
أَخْبَرَنَاه أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ} [التحريم: ٢]، " أَمَرَ اللهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ إِذَا حَرَّمُوا شَيْئًا مِمَّا أَحَلَّ اللهُ أَنْ يُكَفِّرُوا عَنْ أَيْمَانِهِمْ بِإِطْعَامِ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ أَوْ كِسْوَتِهِمْ أَوْ تَحْرِيرِ رَقَبَةٍ وَلَيْسَ يَدْخُلُ فِي ذَلِكَ طَلَاقٌ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قول ﴿قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة التحريم: 2] ”کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کیا ہے۔“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا ہے جب اللہ کی حلال کردہ چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں تو اس کا کفارہ قسم والا ہے؛ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا، اس میں طلاق داخل نہیں ہے۔