السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا قَالَ: " لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ " قَالَ: " أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ تَعَالَى: {كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ} [آل عمران: ٩٣] " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ إِسْرَائِيلَ كَانَتْ بِهِ النَّسَا فَجَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ إِنْ شَفَاهُ اللهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ الْعُرُوقَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَيْسَتْ بِحَرَامٍ ".یوسف بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، انہوں نے فرمایا: وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے، کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا قول نہیں پڑھا: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ﴾ [سورة آل عمران: 93] ”اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانے حلال کر رکھے تھے مگر جو اسرائیل نے اپنے اوپر خود حرام کر لیے۔“
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اسرائیل میں ایک بیماری تھی، کہنے لگے: اگر اللہ نے انہیں شفا دے دی تو وہ ہر قسم کا عرق اپنے اوپر حرام کر لیں گے، حالانکہ وہ حرام نہ تھا۔