السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
حدیث نمبر: 15069
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ مُجَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُجَالِدٍ الْبَجَلِيُّ بِالْكُوفَةِ نا مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، نا الْحَضْرَمِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ هُوَ الشَّعْبِيُّ فِي الرَّجُلِ يَجْعَلُ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ حَرَامًا قَالَ: " يَقُولُونَ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَهَا ثَلَاثًا " قَالَ عَامِرٌ: مَا قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا إِنَّمَا قَالَ: لَا أُحِلُّهَا وَلَا أُحَرِّمُهَا، وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهَا ثَلَاثٌ إِذَا نَوَى إِلَّا أَنَّهَا رِوَايَةٌ ضَعِيفَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی سے مروی ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کو تین طلاقیں شمار کرتے تھے۔ عامر کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا تھا بلکہ فرمایا: نہ تو میں حلال کرتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب وہ نیت کرے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔