السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لامرأته أنت علي حرام باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی بیوی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“۔
حدیث نمبر: 15057
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا رَوْحٌ، نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلَيَّ حَرَامًا، فَقَالَ: " كَذَبْتَ لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ثُمَّ تَلَا: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ عِتْقُ رَقَبَةٍ " لَفْظُ حَدِيثِ رَوْحٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ عَلَى التَّخْيِيرِ وَبِهِ نَقُولُ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میں نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کر لیا ہے۔ فرماتے ہیں: تو نے جھوٹ بولا ہے، وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] اے نبی! آپ نے کیوں حرام کی جو اللہ نے آپ کے لیے حلال رکھا۔ آپ کے ذمہ سخت قسم کا کفارہ گردن کو آزاد کرنا ہے۔ ابونعیم کی حدیث میں ہے کہ آپ کے ذمہ سخت قسم کا کفارہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ تخییر کے بارے میں ہے۔