کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اسے آزاد کرنے کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15074
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] قَالَ: " حَرَّمَ سُرِّيَّتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی لونڈی کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
حدیث نمبر: 15075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} [التحريم: ٢]، قَالَ: " كَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُتَحَابَّتَيْنِ وَكَانَتَا زَوْجَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ حَفْصَةُ إِلَى أَبِيهَا تَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَارِيَتِهِ، فَظَلَّتْ مَعَهُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، وَكَانَ الْيَوْمَ الَّذِي يَأْتِي فِيهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَرَجَعَتْ حَفْصَةُ فَوَجَدَتْهَا فِي بَيْتِهَا فَجَعَلَتْ تَنْتَظِرُ خُرُوجَهَا وَغَارَتْ غَيْرَةً شَدِيدَةً فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَتَهُ وَدَخَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَتْ: قَدْ رَأَيْتُ مَنْ كَانَ عِنْدَكَ وَاللهِ لَقَدْ سُؤْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَأُرْضِيَنَّكِ وَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكِ سِرًّا فَاحْفَظِيهِ " فَقَالَ: " إِنِّي أُشْهِدُكِ أَنَّ سُرِّيَّتِي هَذِهِ عَلَيَّ حَرَامٌ رِضًا لَكِ "، وَكَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ تَظَاهَرَتَا عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ فَأَسَرَّتْ إِلَيْهَا سِرًّا وَهُوَ أَنْ أَبْشِرِي، إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ فَتَاتَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَتْ بِسِرِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظْهَرَ اللهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عطیہ بن سعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة التحريم: 1 - 2] کے متعلق نقل فرماتے ہیں: ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام کر لیا جو چیز اللہ نے آپ کے لیے حلال رکھی ہے اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں اپنے خاوند نبی ﷺ سے محبت کرتی تھیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر جا کر بات چیت کرتی رہیں تو نبی ﷺ نے اپنی لونڈی کو بلوایا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر نبی ﷺ لونڈی کے ساتھ لپٹ گئے اور یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو اپنے گھر لونڈی کو پایا، تو اس کے نکلنے کا انتظار کیا اور سخت غیرت کھائی، تو رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کو نکالا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا گھر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو دیکھ لیا آپ جس کے ساتھ تھے۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ناراض کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تجھے راضی کروں گا لیکن میرا راز پوشیدہ رکھنا، اس کی حفاظت کرنا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی اس لونڈی کو تیری رضا کے لیے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔“ اور حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اکٹھی تھیں، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ راز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کھول دیا کہ آپ خوش ہو جائیں کہ نبی ﷺ نے اپنی لونڈی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے راز کی خبر دے دی تو اللہ رب العزت نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا اظہار کر دیا۔ اللہ نے اپنے رسول پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام قرار دی وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی تھی۔“
حدیث نمبر: 15076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَفْصَةُ حَتَّى جَعَلَهَا عَلَى نَفْسِهِ حَرَامًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ ﷺ مجامعت فرماتے تھے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس لونڈی کو اپنے اوپر حرام کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام قرار دیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا، صرف اپنی بیویوں کی رضامندی کے لیے۔“
حدیث نمبر: 15077
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجُوَيْبِرٌ، ⦗٥٧٩⦘ عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَارَتْ أَبَاهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ يَوْمُهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَهَا فِي الْمَنْزِلِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَمَتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ فَأَصَابَ مِنْهَا فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَجَاءَتْ حَفْصَةُ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَفْعَلُ هَذَا فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي؟ قَالَ: " فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا "، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا بِذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {وَصَالِحِ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: ٤] فَأُمِرَ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ وَيُرَاجِعَ أَمَتَهُ " وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اپنی باری کے دن والد کی زیارت کو چلی گئیں، جب نبی ﷺ آئے تو انہیں گھر میں نہ دیکھا، آپ ﷺ نے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ کو بلا کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہم بستر ہو گئے، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اسی حالت میں آگئیں، کہتی ہیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے یہ کیا کیا میرے گھر میں اور میری باری کے دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے اوپر حرام ہے لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] الی قولہ ﴿وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة التحريم: 4]، آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ قسم کا کفارہ دے کر لونڈی سے رجوع کریں۔
حدیث نمبر: 15078
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَفَ لِحَفْصَةَ أَنْ لَا يَقْرَبَ أَمَتَهُ وَقَالَ: " هِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ "، فَنَزَلَتِ الْكَفَّارَةُ لِيَمِينِهِ وَأُمِرَ أَنْ لَا يُحَرِّمَ مَا أَحَلَّ اللهُ " هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رَوَيْنَاهُ مَوْصُولًا فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے قسم اٹھائی تھی کہ وہ لونڈی کے قریب نہ جائیں گے اور فرمایا: ”یہ میرے اوپر حرام ہے“، تو قسم کا کفارہ نازل ہوا اور حکم دیا گیا کہ ﴿اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام نہ کریں﴾ [سورة التحريم: 1]۔
حدیث نمبر: 15079
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَدَخَلَتْ فَرَأَتْ فَتَاتَهُ مَعَهُ، فَقَالَتْ فِي بَيْتِي وَيَوْمِي؟ فَقَالَ: " اسْكُتِي، فَوَاللهِ لَا أَقْرَبُهَا وَهِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ " أَخْبَرَنَاه أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ نا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ نا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عروبہ رحمہ اللہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں تو لونڈی کو آپ ﷺ کے ساتھ دیکھا۔ کہتی ہیں: میرے گھر اور میری باری کے دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خاموش ہو جا۔ اللہ کی قسم! میں اس کے قریب نہ جاؤں گا، یہ میرے اوپر حرام ہے۔“