السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَتَكِيُّ بِنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا مَرِضَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا فَاطِمَةُ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ، فَقَالَتْ: أَتُحِبُّ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَتْ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَتَرَضَّاهَا وَقَالَ: " وَاللهِ مَا تَرَكْتُ الدَّارَ وَالْمَالَ وَالْأَهْلَ وَالْعَشِيرَةَ إِلَّا ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ وَمَرْضَاةِ رَسُولِهِ وَمَرْضَاتِكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ "، ثُمَّ تَرَضَّاهَا حَتَّى رَضِيَتْ هَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ انہوں نے اجازت مانگی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فاطمہ! ابوبکر آئے ہیں، وہ آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ (میں انہیں) اجازت دے دوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہیں راضی کیا اور کہا: میں نے اپنا گھر، مال، اہل اور خاندان نہیں چھوڑا مگر صرف اللہ کی رضا کے لیے، رسول اللہ ﷺ کی رضا کے لیے اور تم اہل بیت کی رضا کے لیے۔ پھر انہیں راضی کیا، وہ راضی ہو گئیں۔