السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث نمبر: 12741
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ قَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي، قَالَتْ: فَمَا لِي لَا أَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّا لَا نُورَثُ " وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ..حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہا: ”تمہارا وارث کون ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے اہل اور اولاد۔“ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے لیے کیا ہے؟ میں نبی ﷺ کی وارث کیوں نہیں بن سکتی؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور لیکن میں ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں جن کی نبی ﷺ دیکھ بھال کرتے تھے اور ان پر خرچ کرتا ہوں جن پر نبی ﷺ خرچ کرتے تھے۔““