حدیث نمبر: 12730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيُّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَاهُ بَعْدَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رُمَالِ سَرِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرُّمَالِ فِرَاشٌ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: يَا مَالِكُ، إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ مِنْ قَوْمِكَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ حَضَرُوا الْمَدِينَةَ قَدْ أَمَرْتُ لَهُمْ بِرَضْخٍ، فَاقْبِضْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَمَرْتَ بِذَلِكَ غَيْرِي، فَقَالَ: اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ. فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَ حَاجِبُهُ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ يَسْتَأْذِنُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ فَأَدْخِلْهُمْ، فَلَبِثَ قَلِيلًا ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ يَسْتَأْذِنَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَذِنَ لَهُمَا، فَلَمَّا دَخَلَا قَالَ عَبَّاسٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، لِعَلِيٍّ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فِي انْصِرَافِ الَّذِي أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، فَقَالَ الرَّهْطُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ، فَقَالَ عُمَرُ ⦗٤٨٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اتَّئِدُوا، أُنَاشِدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، يُرِيدُ نَفْسَهُ؟ قَالُوا: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللهَ كَانَ خَصَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، فَقَالَ اللهُ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [الحشر: ٦]، وَكَانَتْ هَذِهِ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِمْ مِنْ هَذَا الْمَالِ، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلِ مَالِ اللهِ، فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَهُ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ فِيهِ بِمَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذْكُرَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِ كَمَا تَقُولَانِ، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهِ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تَوَفَّى اللهُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَبَضْتُهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، أَعْمَلُ فِيهِ بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا عَمِلَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ وَأَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذْكُرَانِ أَنِّي فِيهِ كَمَا تَقُولَانِ، وَاللهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهِ لَصَادِقٌ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي كِلَاكُمَا وَكَلِمَتُكُمَا وَاحِدَةٌ، وَأَمْرُكُمَا جَمِيعٌ، فَجِئْتَنِي، يَعْنِي عَبَّاسًا، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، فَلَمَّا بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قُلْتُ: إِنْ شِئْتُمَا دَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدًا لِلَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلَانِ فِيهِ بِمَا عَمِلَ بِهِ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبِمَا عَمِلْتُ بِهِ فِيهِ مُنْذُ وَلِيتُهُ، وَإِلَّا فَلَا تُكَلِّمَانِ، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهُ إِلَيْنَا بِذَلِكَ، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْكُمَا بِذَلِكَ، أَفَتَلْتَمِسَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَوَاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي فِيهِ بِقَضَاءٍ غَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهُ فَادْفَعَاهُ إِلِيَّ؛ فَأَنَا أَكْفِيكُمَا. قَالَ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: صَدَقَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَا سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا أَرُدُّهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: أَلَا تَتَّقِينَ اللهَ، أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ " يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، " إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ "؟ فَانْتَهَتْ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا اخْتَرْتُهُنَّ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي شَيْئًا، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَطَالَتْ فِيهِ خُصُومَتُهُمَا، فَأَبَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَقْسِمَهَا بَيْنَهُمَا حَتَّى أَعْرَضَ عَنْهَا عَبَّاسٌ، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ⦗٤٨٩⦘ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ

مالک بن اوس کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے دن چڑھنے کے بعد بلایا، میں گیا اور آپ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، درمیان میں کوئی بچھونا نہ تھا، تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، کہا: ”اے مالک! تیری قوم کے کچھ لوگ مدینہ آئے تھے۔ میں نے ان کے لیے کچھ مال کا حکم دیا ہے، اسے پکڑو اور ان میں تقسیم کر دو۔“ میں نے کہا: اے امیر المومنین! کاش! آپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے لو۔“ اسی دوران ان کا دربان یرفاء آیا۔ اس نے کہا: عثمان، عبدالرحمن، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کو آنے دو۔“ تھوڑی دیر بعد وہ پھر آیا اور کہا: علی اور عباس رضی اللہ عنہما بھی آئے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان کو بھی اجازت دے دو۔“ وہ دونوں آئے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دو، وہ بنی نضیر کے اموال کے بارے میں لڑ رہے تھے، جو اللہ نے نبی ﷺ کو دیا تھا۔ جماعت (عثمان وغیرہ رضی اللہ عنہم) نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور ایک کو دوسرے سے آرام پہنچاؤ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم سے آسمان زمین قائم ہے، کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، آپ ﷺ نے اپنے آپ کا ارادہ کیا تھا؟“ انھوں نے کہا: ایسے ہی کہا تھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا ایسے ہی ہے؟“ دونوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: ”میں اس بارے تمہیں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے مالِ فئی کو خاص کیا تھا، اور اس میں سے کسی اور کو کچھ نہ دیا تھا، اللہ نے فرمایا: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ﴾ [سورة الحشر: 7] اور یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھا، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اس کو تمہارے علاوہ کسی اور کے لیے خاص نہ کیا تھا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی تھی، آپ ﷺ نے وہ تم کو دیا تھا، باقی مال سے رسول اللہ ﷺ اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے سال بھر کا خرچ۔ پھر رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا والی ہوں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر قبضہ کر لیا اور اس میں کام کیا، جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور تم وہاں تھے۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”تم کو یاد ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو تم نے کہا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک، اچھے اور حق کے تابع تھے۔ پھر اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فوت کر دیا۔ میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا والی ہوں، میں نے قبضہ کر لیا، دو سال میری امارت کے دوران میں نے اس میں کام کیا جیسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کام کیا اور تم اس وقت وہاں تھے“، پھر عمر رضی اللہ عنہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”تم کو یاد ہے اس بارے میں جو تم نے کہا اور اللہ جانتا ہے میں اس میں سچا ہوں، اچھا اور حق کے تابع ہوں، پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تمہاری بات ایک تھی اور تمہارا معاملہ ایک ہی تھا، میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“ پھر جب ظاہر ہوا میرے لیے تو میں نے وہ تم کو دے دیا اور میں نے کہا: میں تم کو اس شرط پر دوں گا کہ تم اس میں اللہ کے وعدے کے مطابق کام کرو گے جیسے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور میں نے کام کیا۔ تم نے کوئی بات نہ کی۔ تم نے کہا: ہمیں اس شرط پر دے دو۔ پس میں نے تم کو دے دیا، کیا اب تم میری طرف سے کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے! میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے، اگر تم اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے دے دو، میں تم دونوں سے اسے کافی ہو جاؤں گا۔“ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں مالک نے سچ کہا ہے، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ﷺ کی بیویوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ مالِ فئی سے ثمن کا سوال کر رہی ہیں، میں نے کہا: میں ان کو اس سے روکوں گی۔ میں نے ان سے کہا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم جانتی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے“، آپ ﷺ کا اپنے بارے میں ارادہ تھا، ”ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آلِ محمد ﷺ اس سے کھا سکتی ہے“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ باتیں آپ کی بیویوں کو کہیں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، وہ فرماتے تھے: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری وراثت تقسیم نہ کرنا ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے“، پس وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس صدقہ تھا۔ ان کا جھگڑا لمبا ہو گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے تقسیم کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے اعراض کر لیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کے بعد حسن بن علی پھر حسین بن علی پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن (رضی اللہ عنہم) دونوں کے پاس رہا۔ پھر زید بن حسن (رحمہ اللہ) کے پاس تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کا صدقہ تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12730
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم له»