السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث نمبر: 12740
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٩٣⦘ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئیں اور اپنی وراثت مانگی، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے، ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“