حدیث نمبر: 12729
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ فِي الْمَدِينَةِ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْنَا لَهُمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مُرْ بِهِ غَيْرِي، قَالَ: اقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْهِ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ فَقَالَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةَ أَمْ لَا، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ. ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً فَقَالَ: هَذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمَا، فَدَخَلَا، قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ؛ فَإِنَّهُمَا قَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا، قَالَ: وَهُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، قَالَ الْقَوْمُ: أَجَلِ اقْضِ بَيْنَهُمَا، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " فَقَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ، قَدْ قَالَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَقَالَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْمَالِ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ، قَالَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى ⦗٤٨٧⦘ رَسُولِهِ مِنْهُمْ} [الحشر: ٦]، الْآيَةَ قَالَ: وَاللهِ مَا حَازَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ قَسَمَهَا فِيكُمْ وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَتَهُ. وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثُمَّ قَالَ: وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ فِيهَا ظَالِمٌ، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ مِنْ إِمَارَتِي، فَفَعَلْتُ فِيهَا بِمَا عَمِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّي فِيهَا ظَالِمٌ، وَاللهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا، يَعْنِي الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا، يُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ "، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْكُمَا، فَأَخَذْتُ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللهِ وَمِيثَاقَهُ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، وَأَيَّامَ وَلِيتُهَا، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا عَلَى ذَلِكَ، فَتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ هَذَا؟ وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيهَا بِقَضَاءٍ غَيْرِ هَذَا، إِنْ كُنْتُمَا عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلِيَّ. قَالَ: فَغَلَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنٍ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ. قَالَ مَعْمَرٌ: ثُمَّ كَانَتْ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَسَنٍ حَتَّى وَلِيَ، يَعْنِي بَنِي الْعَبَّاسِ، فَقَبَضُوهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نمائندہ بلانے آیا۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مدینہ میں تمہاری قوم کے کچھ لوگ آئے تھے اور تحقیق ہم نے ان کے لیے کچھ مال کا حکم دیا ہے، اسے پکڑو اور ان میں تقسیم کر دو۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے پکڑو۔ اسی دوران ان کا غلام یرفاء آیا۔ اس نے کہا: سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن، سیدنا زبیر، سیدنا سعد اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہم (میں نہیں جانتا کہ اس نے نام لیا یا نہ لیا) وہ اجازت طلب کر رہے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے۔ اس نے کہا: سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما بھی اجازت مانگ رہے ہیں، ان دونوں کو بھی اجازت دی گئی۔ وہ بھی آ گئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کر دیں۔ قوم کے لوگوں (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ) نے کہا: ان میں فیصلہ کر دیں اور ایک کو دوسرے سے آرام پہنچائیں، دونوں کی گفتگو لمبی ہو گئی اور وہ دونوں اس وقت بنو نضیر کے ان اموال کے بارے میں جو رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے تھے جھگڑا کر رہے تھے، قوم نے کہا: ان دونوں میں فیصلہ کر دیں اور ہر ایک کو دوسرے سے آرام پہنچائیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پھر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اس مال کے بارے میں خبر دیتا ہوں، بے شک اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو کسی چیز میں خاص کیا اور وہ کسی اور کو نہیں دی تھی، فرمایا: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ﴾ [سورة الحشر: 6] پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تمہارے علاوہ کسی اور کو اس کے لیے خاص نہ کیا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی اور اس کو تم میں تقسیم کر دیا، جو باقی بچا اس میں سے سال بھر آپ ﷺ اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے، معمر رحمہ اللہ نے کہا: گھر کے کھانے کے لیے سال بھر کے لیے روک لیتے تھے۔ پھر باقی اللہ کے مال میں شامل کر دیتے تھے، جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین (ولی) ہوں، میں اس میں کام کروں گا، وہ اس میں کام کرتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم خیال کرتے ہو وہ اس میں ظلم کرنے والے تھے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک اور حق کے تابع تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں اس کا والی بنا، اپنی خلافت کے دو سال میں نے اس میں کام کیا جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کام کیا اور تمہارے خیال میں میں نے ظلم کیا ہے اور اللہ جانتا ہے میں سچا ہوں، نیک ہوں، حق کے تابع ہوں، پھر تم میرے پاس آئے، یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اپنے بھتیجے کی میراث کا سوال کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اپنی بیوی کے باپ سے وراثت کا سوال کیا۔ میں نے تم سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ہم کسی چیز کے وارث نہیں بنائے جاتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے“۔ پھر میرے لیے ظاہر ہوا کہ میں وہ تم کو دے دوں، میں نے تم سے اللہ کا عہد لیا اور اس شرط پر دیا کہ تم اس میں اس طرح کام کرو گے جیسے رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کام کیا، تم دونوں نے کہا: ہمیں دے دو۔ پس اب تم مجھ سے اس کے علاوہ کسی اور فیصلے کی امید رکھتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا، اگر تم دونوں اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے دے دو، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب آ گئے، پس وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا علی بن حسین رحمہ اللہ، پھر سیدنا حسن بن علی رحمہ اللہ، پھر سیدنا زید بن حسن رحمہ اللہ کے پاس رہا۔ معمر رحمہ اللہ نے کہا: پھر سیدنا عبداللہ بن حسن رحمہ اللہ کے پاس رہا یہاں تک کہ بنو عباس والی (حکمران) بن گئے، انہوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12729
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»