حدیث نمبر: 12745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ح قَالَ: وَأنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " قَالَ: فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قُدِمَ بِمَالِ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ؟ فَلْيَقُمْ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَدَنِي: " إِذَا قَدِمَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، يَعْنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ: فَخُذْ، فَحَثَوْتُ، فَقَالَ عُدَّهَا، فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، قَالَ: فَخُذْ بِعَدَدِهَا مَرَّتَيْنِ. زَادَ فِيهِ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: أَتَيْتُهُ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ، مَرَّةً فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ⦗٤٩٤⦘ الثَّانِيَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي، فَقُلْتُ: قَدْ سَأَلْتُكَ مَرَّتَيْنِ فَلَمْ تُعْطِنِي، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي، وَإِمَّا أَنْ تُبَخَّلَ، قَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي مَرَّةً إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ، فَأِيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ؟ قَالَ إِسْحَاقُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ أَوْ نَحْوَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا (تین دفعہ فرمایا) دوں گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بحرین کا مال نہ آیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، پھر جب بحرین کا مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کسی کا نبی ﷺ پر قرض وغیرہ ہے، پس وہ کھڑا ہوجائے۔“ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ”جب بحرین کا مال آئے گا میں تمہیں یہ یہ دوں گا“، یعنی تین مٹھیاں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پکڑ لو۔“ میں نے مٹھی بھری تو انہوں (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”ان کو شمار کرو“، تو وہ پانچ سو تھیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”دو مرتبہ اس تعداد کو (مزید) پکڑو۔“ ابن منکدر نے زیادتی کی ہے: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ آیا، پس میں نے ان سے سوال کیا لیکن انہوں نے نہ دیا، پھر میں دوسری مرتبہ آیا اور میں نے سوال کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے نہ دیا، میں نے کہا: میں نے آپ سے دو دفعہ سوال کیا ہے آپ نے مجھے دیا نہیں، یا تو آپ مجھے دے دیں یا آپ بخل کر رہے ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تو پہلی دفعہ میرے پاس آیا تھا میرا ارادہ تھا کہ تمہیں دے دوں گا، بخل والی کیا بات ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 12745
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 2296»