السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: بيان مصرف أربعة أخماس الفيء بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنها تجعل حيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجعل فضول غلات تلك الأموال مما فيه صلاح الإسلام وأهله، وأنها لم تكن موروثة عنه باب: رسول اللہ ﷺ کے بعد مالِ فے کے بقیہ چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ انہیں وہیں خرچ کیا جائے گا جہاں رسول اللہ ﷺ ان اموال کی زائد پیداوار کو اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں خرچ فرماتے تھے، اور یہ کہ یہ مال آپ ﷺ سے وراثت میں منتقل نہیں ہوا
حدیث نمبر: 12738
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قُلْتُ: أَلَا تَتَّقِينَ اللهَ، أَلَمْ تَسْمَعْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ؛ إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِآلِ مُحَمَّدٍ لِنَائِبَتِهِمْ وَلِضَيْفِهِمْ، فَإِذَا مِتُّ فَهُوَ إِلَى وَلِيِّ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي "؟.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کی سند سے ہے کہ میں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم وارث نہیں بنائے جاتے۔ ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، یہ مال آلِ محمد (ﷺ) کا ہے، ان کے حوادثات کے لیے، ان کے مہمانوں کے لیے، جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے بعد میرے والی کے لیے ہو گا۔“