کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان بعض اقوال کا تذکرہ جو اس حدیث کی تصحیح کے حوالے سے ہم تک حفاظِ حدیث سے پہنچے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ سَمِعْتُ أَبَا حَامِدِ بْنَ الشَّرْقِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ سَعِيدٍ النَّسَوِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، وَقَدْ سُئِلَ أَيُّمَا حَدِيثٍ أَصَحُّ عِنْدَكَ فِي " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ "؟ فَقَالَ: حَدِيثُ ثَوْبَانَ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ فَقِيلَ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: فَحَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: ذَاكَ تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ قَالَ أَبُو حَامِدٍ وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن سعید نیسوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک کون سی حدیث صحیح ہے «الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» کے «مُفْطِر» "روزہ ٹوٹنے" کے متعلق؟ انہوں نے فرمایا: ثوبان رضی اللہ عنہ کی حدیث جو یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی روایت سے ہے، یعنی یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی قلابہ عن ابی اسماء عن ثوبان۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا گیا: پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث کیا ہوئی؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں معمر رحمہ اللہ اکیلے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ فِي " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " حَدِيثًا أَصَحَّ مِنْ ذَا، يَعْنِي مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ..
حافظ ثناء اللہ
علی بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں «حَاجِمٌ وَمَحْجُومٌ» کے افطار کی اس حدیث یعنی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ صحیح کوئی حدیث نہیں جانتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّرَامِيَّ يَقُولُ: قَدْ صَحَّ عِنْدِي حَدِيثُ أَفْطَرَ ⦗٤٤٥⦘ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ لِحَدِيثِ ثَوْبَانَ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَقُولُ بِهِ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ بِهِ وَيَذْكُرُ أَنَّهُ صَحَّ عِنْدَهُ حَدِيثُ ثَوْبَانَ وَشَدَّادٌ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک حاجم و محجوم کی یہ حدیث، ثوبان اور شداد رضی اللہ عنہما کی حدیث کی بنا پر صحیح ثابت ہو چکی ہے اور میں اسی کا قائل ہوں۔ اور میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا کہ وہ بھی اسی کے قائل تھے اور ذکر کرتے تھے کہ ان کے نزدیک ثوبان اور شداد کی حدیث صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا ابْنُ أَبِي عِصْمَةَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: " أَحَادِيثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ "، " وَلَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " أَحَادِيثُ يَشُدُّ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَيْهَا..
حافظ ثناء اللہ
احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «حَاجِم» اور «مَحْجُوم» کے افطار کی حدیث اور «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“ کی حدیث ایسی احادیث ہیں جو ایک دوسری کو تقویت دیتی ہیں اور میں اسی طرف گیا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ لِحَدِيثِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ وَهَذَا الْحَدِيثُ صَحِيحٌ بِأَسَانِيدَ وَبِهِ نَقُولُ..
حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سند کے اعتبار سے صحیح ہے اور اسی پر حجت قائم ہوئی۔ اور یہ حدیث کئی سندوں سے صحیح ہے اور ہم اسی کے قائل ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ: حَدِيثُ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ رَوَاهُ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادٍ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ وَلَا أَرَى الْحَدِيثَيْنِ إِلَّا صَحِيحَيْنِ فَقَدْ يُمَكِنُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا..
حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رمضان میں سنگی لگوا رہا تھا، اس حدیث کو عاصم احول نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواشعث سے اور انہوں نے شداد سے روایت کیا ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے ثوبان سے روایت کیا ہے، اور میرے خیال میں دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کیونکہ ممکن ہے کہ (ابوقلابہ نے) اسے ان دونوں سے سنا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ: أِيُّ حَدِيثٍ أَصَحُّ فِي " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ "؟ قَالَ: حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْحِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا کہ «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ کون سی حدیث صحیح ہے؟ انہوں نے کہا: ابن جریج رحمہ اللہ کی حدیث جو انہوں نے مکحول رحمہ اللہ کے واسطے سے ثوبان رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ يَقُولُ: قُلْتُ لِعَبْدَانَ الْأَهْوَازِيِّ: يَصِحُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ الْعَنْبَرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: قَدْ صَحَّ حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعلی حافظ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدان اہوازی سے کہا: کیا یہ درست ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی؟ تو انہوں نے کہا: میں نے عباس عنبری رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابورافع کی حدیث جو انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حاجم اور محجوم دونوں نے افطار کیا“، یہ صحیح ہے۔
اور مجھے ابوعیسیٰ ترمذی سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوزرعہ سے عطاء عن ابی ہریرہ کی مرفوع حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے۔
اور مجھے ابوعیسیٰ ترمذی سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوزرعہ سے عطاء عن ابی ہریرہ کی مرفوع حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے۔