کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٤٦⦘ الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَمَرَّ عَلَيَّ رَجُلٌ لِثَمَانِ عَشْرَةَ أَوْ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ ﷺ اٹھارہ رمضان یا سترہ رمضان کو ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سنگی لگوا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم و محجوم نے افطار کیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْفَتْحِ فَرَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے فتحِ مکہ کے سال، جب آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سنگی لگوا رہا ہے، تب رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے اور آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا کہ: ”حاجم ومحجوم نے افطار کر لیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمَاعُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَلَمْ يَصْحَبْهُ مُحْرِمًا قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ، فَذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ حِجَامَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ سَنَةَ عَشْرٍ، وَحَدِيثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ سَنَةَ ثَمَانٍ قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ بِسَنَتَيْنِ فَإِنْ كَانَا ثَابِتَينِ فَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ نَاسِخٌ وَحَدِيثُ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " مَنْسُوخٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ مَعًا مُشْتَبَهٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَمْثَلُهُمَا إِسْنَادًا، فَإِنَ تَوَقَّى رَجُلٌ الْحِجَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ احْتِيَاطًا وَلِئَلَّا يُعَرِّضَ صَوْمَهُ أَنْ يَضْعُفَ فَيُفْطِرَ فَإِنِ احْتَجَمَ فَلَا تُفْطِرُهُ الْحِجَامَةُ وَمَعَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْقِيَاسُ الَّذِي أَحْفَظُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَعَامَّةِ الْمَدَنِيِّينَ أَنَّهُ لَا يُفْطِرُ أَحَدٌ بِالْحِجَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے احرام اور روزے کی حالت میں سنگی لگوائی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نبی ﷺ سے سماع عام الفتح سے ہے، اس دن آپ ﷺ محرم نہیں تھے، اور حجۃ الاسلام سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما احرام کی حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ نہیں رہے۔ لہٰذا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی سنگی کا جو تذکرہ کیا ہے وہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا ہے، اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث سن 8 ہجری کی ہے، یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ سو اگر یہ دونوں ثابت ہوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں حدیثوں کی سند مشتبہ ہے اور سند کے اعتبار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ان دونوں میں بہتر ہے۔ سو اگر کوئی احتیاطاً سنگی سے بچے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ اپنے روزے کو اس خطرے میں نہ ڈالے کہ کمزور ہو کر روزہ افطار کر لے، اور اگر سنگی لگوا لے تو سنگی اس کا روزہ نہیں توڑے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ قیاس بھی ہے اور وہ بات بھی جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ، تابعین اور عام اہل مدینہ سے یاد رکھی ہے کہ سنگی سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نبی ﷺ سے سماع عام الفتح سے ہے، اس دن آپ ﷺ محرم نہیں تھے، اور حجۃ الاسلام سے پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما احرام کی حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ نہیں رہے۔ لہٰذا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی سنگی کا جو تذکرہ کیا ہے وہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا ہے، اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث سن 8 ہجری کی ہے، یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ سو اگر یہ دونوں ثابت ہوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» والی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: دونوں حدیثوں کی سند مشتبہ ہے اور سند کے اعتبار سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ان دونوں میں بہتر ہے۔ سو اگر کوئی احتیاطاً سنگی سے بچے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، تاکہ وہ اپنے روزے کو اس خطرے میں نہ ڈالے کہ کمزور ہو کر روزہ افطار کر لے، اور اگر سنگی لگوا لے تو سنگی اس کا روزہ نہیں توڑے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ساتھ قیاس بھی ہے اور وہ بات بھی جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ، تابعین اور عام اہل مدینہ سے یاد رکھی ہے کہ سنگی سے کسی کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ⦗٤٤٧⦘ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا كُرِهْتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفْطَرَ هَذَانِ " ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِلَفْظِ التَّرْخِيصِ يَدُلُّ عَلَى هَذَا فَإِنَّ الْأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِيصَ يَكُونُ بَعْدَ النَّهْيِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس کی وجہ سے سنگی کو ناپسند کیا گیا وہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم ﷺ کا پاس سے گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں نے افطار کر لیا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے روزے دار کو سنگی لگوانے کی رخصت دے دی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔
علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور میں اس میں کوئی علت نہیں جانتا۔
علی بن عمر دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: اس کے سب راوی ثقہ ہیں اور میں اس میں کوئی علت نہیں جانتا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَحْتَجِمُ عِنْدَ الْحَجَّامِ وَهُوَ يُقْرِضُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " قَوْلُهُ: يُقْرِضُ رَجُلًا لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَغَيْرُ يَزِيدَ رَوَاهُ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَأَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ رَوَاهُ عَنْ ثَوْبَانَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو حجام کے پاس سنگی لگوا رہا تھا اور وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم اور محجوم نے افطار کر لیا۔“
”وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا“ کے الفاظ میں نے صرف اسی حدیث میں لکھے ہیں۔ یزید کے علاوہ دوسروں نے اسے ابواشعث سے، انہوں نے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور ابواسماء رحبی نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔
”وہ ایک آدمی کی غیبت کر رہا تھا“ کے الفاظ میں نے صرف اسی حدیث میں لکھے ہیں۔ یزید کے علاوہ دوسروں نے اسے ابواشعث سے، انہوں نے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور ابواسماء رحبی نے اسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ فَلَا أَدْرِي عَنْ شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَوْ شَيْءٍ سَمِعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں سنگی لگوایا کرتے تھے، بعد میں ترک کر دیا، پھر رات کے وقت سنگی لگوایا کرتے تھے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے کوئی بات بیان کی یا سنی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عِنْدَ وَقْتِ الْفِطْرِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان میں افطار کے وقت سنگی لگواتے تھے۔