کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان شواہد کا بیان جن سے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8299
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٤٦⦘ الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَمَرَّ عَلَيَّ رَجُلٌ لِثَمَانِ عَشْرَةَ أَوْ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ ﷺ اٹھارہ رمضان یا سترہ رمضان کو ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سنگی لگوا رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم و محجوم نے افطار کیا۔“
حدیث نمبر: 8300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْفَتْحِ فَرَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے فتحِ مکہ کے سال، جب آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سنگی لگوا رہا ہے، تب رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے اور آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا کہ: ”حاجم ومحجوم نے افطار کر لیا۔“
حدیث نمبر: 8301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَسَمَاعُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا، وَلَمْ يَصْحَبْهُ مُحْرِمًا قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ، فَذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ حِجَامَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ سَنَةَ عَشْرٍ، وَحَدِيثُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ سَنَةَ ثَمَانٍ قَبْلَ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ بِسَنَتَيْنِ فَإِنْ كَانَا ثَابِتَينِ فَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ نَاسِخٌ وَحَدِيثُ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " مَنْسُوخٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِسْنَادُ الْحَدِيثَيْنِ مَعًا مُشْتَبَهٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَمْثَلُهُمَا إِسْنَادًا، فَإِنَ تَوَقَّى رَجُلٌ الْحِجَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ احْتِيَاطًا وَلِئَلَّا يُعَرِّضَ صَوْمَهُ أَنْ يَضْعُفَ فَيُفْطِرَ فَإِنِ احْتَجَمَ فَلَا تُفْطِرُهُ الْحِجَامَةُ وَمَعَ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْقِيَاسُ الَّذِي أَحْفَظُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَعَامَّةِ الْمَدَنِيِّينَ أَنَّهُ لَا يُفْطِرُ أَحَدٌ بِالْحِجَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
مقسم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے احرام اور رمضان میں سنگی لگوائی۔“
سو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عام الفتح کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سماع نبی ﷺ سے ثابت نہیں کیونکہ اس دن وہ محرم نہیں تھے، اسلام کے حج سے پہلے محرم کی حالت میں آپ ﷺ کی صحبت نہیں ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی سنگی کا تذکرہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا کیا ہے، جو حدیث ہے یہ آٹھ یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ اگر یہ ثابت ہے تو پھر یہ ناسخ ہے۔ سو اگر کوئی سنگی سے بچتا ہے تو میرے نزدیک احتیاط بہت رہے، شاید یہ روزہ کو کمزور کر دے اور اسے افطار کرنا پڑے، ویسے اگر سنگی لگوائی تو وہ روزے کو افطار نہیں کرے گی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہونے پر وہ افطار نہیں کرے گا۔
سو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ناسخ اور سیدنا شداد رضی اللہ عنہ کی حدیث منسوخ ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عام الفتح کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سماع نبی ﷺ سے ثابت نہیں کیونکہ اس دن وہ محرم نہیں تھے، اسلام کے حج سے پہلے محرم کی حالت میں آپ ﷺ کی صحبت نہیں ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کی سنگی کا تذکرہ سن 10 ہجری حجۃ الاسلام کے سال کا کیا ہے، جو حدیث ہے یہ آٹھ یعنی حجۃ الاسلام سے دو سال پہلے۔ اگر یہ ثابت ہے تو پھر یہ ناسخ ہے۔ سو اگر کوئی سنگی سے بچتا ہے تو میرے نزدیک احتیاط بہت رہے، شاید یہ روزہ کو کمزور کر دے اور اسے افطار کرنا پڑے، ویسے اگر سنگی لگوائی تو وہ روزے کو افطار نہیں کرے گی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہونے پر وہ افطار نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 8302
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ⦗٤٤٧⦘ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَوَّلُ مَا كُرِهْتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفْطَرَ هَذَانِ " ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ: كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِلَفْظِ التَّرْخِيصِ يَدُلُّ عَلَى هَذَا فَإِنَّ الْأَغْلَبَ أَنَّ التَّرْخِيصَ يَكُونُ بَعْدَ النَّهْيِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلا شخص جس کی وجہ سے سنگی کو ناپسند کیا گیا وہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں کہ انہوں نے روزے کی حالت میں سنگی لگوائی تو نبی کریم ﷺ کا پاس سے گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں نے افطار کر لیا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے روزے دار کو سنگی لگوانے کی رخصت دے دی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے۔
حدیث نمبر: 8303
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَحْتَجِمُ عِنْدَ الْحَجَّامِ وَهُوَ يُقْرِضُ رَجُلًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " قَوْلُهُ: يُقْرِضُ رَجُلًا لَمْ أَكْتُبْهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَغَيْرُ يَزِيدَ رَوَاهُ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَأَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ رَوَاهُ عَنْ ثَوْبَانَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو سنگی لگوا رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» حاجم اور محجوم نے افطار کر لیا۔“
حدیث نمبر: 8304
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ فَلَا أَدْرِي عَنْ شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَوْ شَيْءٍ سَمِعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما روزے کی حالت میں سنگی لگوایا کرتے تھے، بعد میں ترک کر دیا، پھر رات کے وقت سنگی لگوایا کرتے تھے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے کوئی بات بیان کی یا سنی۔
حدیث نمبر: 8305
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ عِنْدَ وَقْتِ الْفِطْرِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رمضان میں افطار کے وقت سنگی لگواتے تھے۔