کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي قال: سألتُ مُرّةً عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: 71] فحدَّثَني أنَّ عبد الله بن مسعود حدَّثَهم، أن رسول الله ﷺ قال: "يَرِدُ الناسُ النارَ ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم، فأولُهم كلَمْح البَرْق، ثم كالرِّيحِ، ثم كحُضْرِ الفَرَس، ثم كالراكب في رَحْلِه، ثم كشَدِّ الرَّجُل (1) ثم كمَشْيِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبةُ عن إسماعيل السُّدّي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8741 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مرہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ”اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس (جہنم) پر سے گزرنے والا ہے۔“ [سورة مريم: 71] کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ جہنم پر وارد ہوں گے (یعنی پل صراط سے گزریں گے)، پھر وہ اپنے اعمال کے مطابق اس سے واپس (پار) ہوں گے، چنانچہ ان میں سے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح، پھر ہوا کی طرح، پھر تیز رفتار گھوڑے کی طرح، پھر اونٹ کے کجاوے پر سوار شخص کی طرح، پھر آدمی کے دوڑنے کی طرح، اور پھر اس کے پیدل چلنے کی طرح گزریں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے شعبہ نے اسماعیل سدی سے بھی روایت کیا ہے:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8956
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل السدي» [ترقيم الرساله 8956] [ترقيم الشركة 8847] [ترقيم العلميه 8741]
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، أخبرنا أبو بكر بن أبي العَوَّام، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن السُّدِّي، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصُدرون عنها بأعمالِهم (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8957
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن كسابقه» [ترقيم الرساله 8957] [ترقيم الشركة 8848]
حدَّثَنيه أبو علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا محمد بن المثَّنى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعبة، عن السُّدّي، عن مُرّة، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم. قال عبد الرحمن بن مَهْدي: فحدَّثتُ شعبةَ عن إسرائيلَ عن السُّدِّي عن مُرّة عن عبد الله مرفوعًا عن النبي ﷺ، [قال: شعبةُ وقد سمعتُه من السُّدّي مرفوعًا] (1) ولكني أَدَعُه عَمْدًا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔“ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے یہ حدیث بطریق اسرائیل، سدی، مرہ اور عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کی، تو شعبہ نے کہا: ”میں نے بھی اسے سدی سے مرفوعاً سنا ہے لیکن میں نے جان بوجھ کر اسے (مرفوع بیان کرنے کو) ترک کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8958] [ترقيم الشركة 8849]
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا أبو صالح غالب بن سليمان، عن كَثير بن زيادٍ أبي سهل، عن مُسَّةَ الأزْديَّة، عن عبد الرحمن بن شَيْبة قال: اختلَفْنا هاهنا في الوُرود، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم يُنجِّي الله الذين اتَّقَوا [فَلَقِيتُ جابر بن عبد الله فسألته، فقال: يدخلونها جميعًا ثم يُنجي الله الذين اتَّقَوا] (3) فقلت له: إنا اختلفنا فيها بالبصرة، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم ينجِّي الله الذين اتَّقَوْا، فأهوى بإصبَعيهِ إلى أُذنيه فقال: صُمَّتا إن لم أكن سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الوُرودُ الدخولُ، لا يبقى بَرٌّ ولا فاجرٌ إلَّا دخلها، فتكون على المؤمن بردًا وسلامًا كما كانت على إبراهيمَ، حتى إنَّ للنار - أو قال: لجهنَّم - ضجيجًا من بَرْدِها (4)، قال: ثم يُنجِّي اللهُ الذين اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظالمين فيها جِثِيًّا" (5)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا یہاں (آیت میں مذکور لفظ) ورود (وارد ہونے) کے متعلق اختلاف ہو گیا، تو ایک گروہ نے کہا کہ اس میں کوئی مومن داخل نہیں ہوگا، اور دوسروں نے کہا کہ وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔“ میں نے ان سے عرض کی: ہمارا بصرہ میں اس بارے میں اختلاف ہوا ہے، ایک گروہ کہتا ہے کہ کوئی مومن اس میں داخل نہیں ہوگا، اور دوسرے کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ متقیوں کو نجات دے گا۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کی طرف کیں اور فرمایا: ”میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ورود سے مراد داخل ہونا ہے، کوئی نیک اور بد ایسا باقی نہیں رہے گا جو اس میں داخل نہ ہو، مگر وہ (آگ) مومن پر اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے وہ ابراہیم (علیہ السلام) پر بن گئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی، یا آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم کی، چیخ و پکار سنائی دے گی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8959
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية، ولاضطراب كثير بن زياد فيه» [ترقيم الرساله 8959] [ترقيم الشركة 8850] [ترقيم العلميه 8744]
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرّاح العَدْل بمَرُو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا داود بن الزِّبْرِقان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مُرّة الهَمْداني: أنَّ ابن مسعود سُئل عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾، قال: وإن منكم إلَّا داخِلُها ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ثم يُنجِّي الله الذين اتقوا ويذرُ الظالمين فيها جِثِيًّا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
حافظ طلحہ بابر
مرہ ہمدانی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس میں داخل ہونے والا ہے۔“ ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] (پھر فرمایا:) ”پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8960
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان، فإنه متروك الحديث» [ترقيم الرساله 8960] [ترقيم الشركة 8851] [ترقيم العلميه 8745]
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى بن إبراهيم قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عُبَيد بن عَبِيدة القُرشي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت أبي يقول: حدثنا قَتادة، عن عُقْبة بن عبد الغافر، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لَيَأْخُذَنَّ (2) رجلٌ بيد أَبيه يومَ القيامة، فلُيقطِّعنَّه النارَ يريد أن يُدخِلَه الجنةَ، قال: فيُنادَى: إِنَّ الجنةَ لا يَدخلُها مشركٌ، ألا إِنَّ الله قد حرَّمَ الجنةَ على كل مشركٍ، قال: فيقول: أيْ ربِّ، أَبي، فيُحوَّل في صورة قبيحةٍ وريحٍ مُنتِنة، فيتركُه". قال: فكان أصحابُ رسولَ الله ﷺ يرونَ أنه إبراهيمُ ﵇، ولم يَزِدْهم رسولُ الله ﷺ على ذلك (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص اپنے والد کا ہاتھ پکڑے گا، اور اسے آگ سے پار کراتے ہوئے یہ چاہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس آواز دی جائے گی: بے شک جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا، سن لو! بے شک اللہ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! (یہ) میرے والد (ہیں)۔ چنانچہ اس کے والد کو ایک نہایت قبیح اور بدبودار صورت میں تبدیل کر دیا جائے گا، تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کا یہ خیال تھا کہ وہ شخص سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ بیان نہیں فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8961
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8961] [ترقيم الشركة 8852] [ترقيم العلميه 8746]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا سعيد بن محمد الحَجْواني بالكوفة، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: بَكَى عبد الله بن رَوَاحة فبَكَت، امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني نُبِّئتُ أني واردُها، ولم أُنبَّأْ أني صادرٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روئے تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ خبر تو دی گئی ہے کہ میں اس (جہنم) پر وارد ہونے والا (پل صراط سے گزرنے والا) ہوں، لیکن یہ خبر نہیں دی گئی کہ میں اس سے پار ہونے والا بھی ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8962
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير سعيد بن محمد الحجواني، فقد ضعَّفه الدارقطني كما في "سؤالات الحاكم له" (109)، لكنه لم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8962] [ترقيم الشركة 8853]
حدثنا أبو العباس محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكَّة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كان عبدُ الله بن رَوَاحةً واضعًا رأسَه في حَجْرِ امرأتِه، فبكى فبَكَت امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني ذكرتُ قول الله ﷿: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ فلا أدري أنَنجُو منها أم لا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسال
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے ہوئے تھے کہ وہ رو پڑے، تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اللہ عزوجل کا یہ فرمان یاد آ گیا: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس (آگ) سے نجات پائیں گے یا نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8963
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رجاله ثقات. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 10» [ترقيم الرساله 8963] [ترقيم الشركة 8854] [ترقيم العلميه 8748]