المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ . باب: لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدیث نمبر: 8960
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرّاح العَدْل بمَرُو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا داود بن الزِّبْرِقان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مُرّة الهَمْداني: أنَّ ابن مسعود سُئل عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾، قال: وإن منكم إلَّا داخِلُها ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ثم يُنجِّي الله الذين اتقوا ويذرُ الظالمين فيها جِثِيًّا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داودحافظ طلحہ بابر
مرہ ہمدانی سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [سورة مريم: 71] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اور تم میں سے کوئی (ایسا) نہیں مگر وہ اس میں داخل ہونے والا ہے۔“ ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] (پھر فرمایا:) ”پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل داود بن الزبرقان، فإنه متروك الحديث.
درجۂ حدیث: داود بن الزبرقان کی وجہ سے یہ سند "بہت زیادہ ضعیف" (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ وہ "متروک الحدیث" ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 16/ 110 من طريق الحسين بن داود سُنيد، عن داود بن الزبرقان قال: سمعت السدي يذكر عن مُرّة الهمداني عن ابن مسعود.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" (16/ 110) میں حسین بن داود سنید کے طریق سے، داود بن الزبرقان سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سدی کو مرہ الہمدانی سے اور انہوں نے ابن مسعود سے ذکر کرتے ہوئے سنا۔
درجۂ حدیث: داود بن الزبرقان کی وجہ سے یہ سند "بہت زیادہ ضعیف" (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ وہ "متروک الحدیث" ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 16/ 110 من طريق الحسين بن داود سُنيد، عن داود بن الزبرقان قال: سمعت السدي يذكر عن مُرّة الهمداني عن ابن مسعود.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" (16/ 110) میں حسین بن داود سنید کے طریق سے، داود بن الزبرقان سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سدی کو مرہ الہمدانی سے اور انہوں نے ابن مسعود سے ذکر کرتے ہوئے سنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8960 سے ماخوذ ہے۔