المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ . باب: لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدیث نمبر: 8958
حدَّثَنيه أبو علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا محمد بن المثَّنى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعبة، عن السُّدّي، عن مُرّة، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم. قال عبد الرحمن بن مَهْدي: فحدَّثتُ شعبةَ عن إسرائيلَ عن السُّدِّي عن مُرّة عن عبد الله مرفوعًا عن النبي ﷺ، [قال: شعبةُ وقد سمعتُه من السُّدّي مرفوعًا] (1) ولكني أَدَعُه عَمْدًا (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ اس پر وارد ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بقدر اس سے پار ہو جائیں گے۔“ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے یہ حدیث بطریق اسرائیل، سدی، مرہ اور عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کی، تو شعبہ نے کہا: ”میں نے بھی اسے سدی سے مرفوعاً سنا ہے لیکن میں نے جان بوجھ کر اسے (مرفوع بیان کرنے کو) ترک کر دیا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين ليس في النسخ الخطية، واستدركناه من "جامع الترمذي" ولا بدَّ منه.
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں میں نہیں ہے، اسے ہم نے "جامع ترمذی" سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے اور یہ ناگزیر ہے۔
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3160 م) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3160-م) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے عبد الرحمن بن مہدی سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج أحمد 7/ (4141) رواية عبد الرحمن بن مهدي عن إسرائيل مرفوعًا.
حوالہ / مصدر: اور امام احمد (7/ 4141) نے عبد الرحمن بن مہدی عن اسرائیل کی روایت کو "مرفوعاً" تخریج کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں میں نہیں ہے، اسے ہم نے "جامع ترمذی" سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے اور یہ ناگزیر ہے۔
(2) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3160 م) عن محمد بن بشار، عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3160-م) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے عبد الرحمن بن مہدی سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج أحمد 7/ (4141) رواية عبد الرحمن بن مهدي عن إسرائيل مرفوعًا.
حوالہ / مصدر: اور امام احمد (7/ 4141) نے عبد الرحمن بن مہدی عن اسرائیل کی روایت کو "مرفوعاً" تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8958 سے ماخوذ ہے۔