المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ . باب: لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا أبو صالح غالب بن سليمان، عن كَثير بن زيادٍ أبي سهل، عن مُسَّةَ الأزْديَّة، عن عبد الرحمن بن شَيْبة قال: اختلَفْنا هاهنا في الوُرود، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم يُنجِّي الله الذين اتَّقَوا [فَلَقِيتُ جابر بن عبد الله فسألته، فقال: يدخلونها جميعًا ثم يُنجي الله الذين اتَّقَوا] (3) فقلت له: إنا اختلفنا فيها بالبصرة، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم ينجِّي الله الذين اتَّقَوْا، فأهوى بإصبَعيهِ إلى أُذنيه فقال: صُمَّتا إن لم أكن سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الوُرودُ الدخولُ، لا يبقى بَرٌّ ولا فاجرٌ إلَّا دخلها، فتكون على المؤمن بردًا وسلامًا كما كانت على إبراهيمَ، حتى إنَّ للنار - أو قال: لجهنَّم - ضجيجًا من بَرْدِها (4)، قال: ثم يُنجِّي اللهُ الذين اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظالمين فيها جِثِيًّا" (5)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيحعبدالرحمن بن شیبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارا یہاں (آیت میں مذکور لفظ) ورود (وارد ہونے) کے متعلق اختلاف ہو گیا، تو ایک گروہ نے کہا کہ اس میں کوئی مومن داخل نہیں ہوگا، اور دوسروں نے کہا کہ وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ سب اس میں داخل ہوں گے، پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا۔“ میں نے ان سے عرض کی: ہمارا بصرہ میں اس بارے میں اختلاف ہوا ہے، ایک گروہ کہتا ہے کہ کوئی مومن اس میں داخل نہیں ہوگا، اور دوسرے کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ متقیوں کو نجات دے گا۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کی طرف کیں اور فرمایا: ”میرے یہ دونوں کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: ورود سے مراد داخل ہونا ہے، کوئی نیک اور بد ایسا باقی نہیں رہے گا جو اس میں داخل نہ ہو، مگر وہ (آگ) مومن پر اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے وہ ابراہیم (علیہ السلام) پر بن گئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی، یا آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم کی، چیخ و پکار سنائی دے گی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ پرہیزگاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط تھی، اسے ہم نے "تلخیص الذہبی" سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے۔
(4) هكذا في (ك)، وهو الصواب، وتحرّف في (ز) و (ب) و التلخيص" إلى: برقها، ووقع مكانها في (م) بياض.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ک) میں اسی طرح (ورقہا) ہے اور یہی درست ہے، جبکہ نسخہ (ز)، (ب) اور "تلخیص" میں یہ تحریف ہو کر "برقها" بن گیا ہے، اور نسخہ (م) میں اس کی جگہ خالی (سفید) ہے۔
(5) إسناده ضعيف لجهالة مسة الأزدية، ولاضطراب كثير بن زياد فيه.
درجۂ حدیث: مسہ الازدیہ کی "جہالت" (مجہول ہونے) اور کثیر بن زیاد کے "اضطراب" کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
فقد أخرجه أحمد 22/ (14520) عن سليمان بن حرب، عن غالب بن سليمان، عن كثير بن زياد، عن أبي سمية قال: اختلفنا هاهنا في الورود … ثم ذكر لُقيّه جابرًا، فأسقط منه عبد الرحمن ابن شيبة. وأبو سمية هذا مجهول أيضًا، انفرد بالرواية عنه كثير بن زياد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (22/ 14520) نے سلیمان بن حرب سے، انہوں نے غالب بن سلیمان سے، انہوں نے کثیر بن زیاد سے اور انہوں نے ابو سمیہ سے روایت کیا ہے کہ: "ہمارا یہاں (جہنم پر) وارد ہونے کے بارے میں اختلاف ہوگیا..." پھر انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا، اس روایت میں انہوں نے "عبد الرحمن بن شیبہ" (کا واسطہ) گرا دیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ ابو سمیہ بھی "مجہول" ہیں، ان سے روایت کرنے میں کثیر بن زیاد منفرد ہیں۔