المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ . باب: لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدیث نمبر: 8963
حدثنا أبو العباس محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكَّة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن عُيَينة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: كان عبدُ الله بن رَوَاحةً واضعًا رأسَه في حَجْرِ امرأتِه، فبكى فبَكَت امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني ذكرتُ قول الله ﷿: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ فلا أدري أنَنجُو منها أم لا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8748 - فيه إرسالحافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے ہوئے تھے کہ وہ رو پڑے، تو ان کی بیوی بھی رونے لگی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ اس نے کہا: میں نے آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رو پڑی۔ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اللہ عزوجل کا یہ فرمان یاد آ گیا: ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ”یہ آپ کے رب پر لازم اور طے شدہ بات ہے۔“ [سورة مريم: 71] تو مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس (آگ) سے نجات پائیں گے یا نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات. وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 10 - 11.
درجۂ حدیث: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/ 10-11) میں موجود ہے۔
درجۂ حدیث: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/ 10-11) میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8963 سے ماخوذ ہے۔