کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کا ناموں سے اچھا شگون (فال) لینا
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا هشام بن علي السَّدوسي، حَدَّثَنَا معاذ بن هانئ، حَدَّثَنَا عبد الله بن الحارث بن أَبْزَى المكي، حدثتني رَيْطة بنت مسلم، عن أبيها: أنه شَهِدَ مع رسول الله ﷺ حُنينًا، قال: "ما اسمُك؟ " قال: غُرابٌ، قال: "اسمُك مُسلِم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7727 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ریطہ بنت مسلم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں حاضر تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: غراب (کوا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا نام مسلم ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7920
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين، ريطة» [ترقيم الرساله 7920] [ترقيم الشركة 7826] [ترقيم العلميه 7727]
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وأخبرني أبو عمرو (1) بن مَطَر العَدْل، حدثنا يحيى بن محمد بن البَخْتَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ أبا إسحاق يُحدِّث عن خَيْثمةَ: أنَّ جده سمَّى أباه عَزيزًا، فذَكَرَ ذلك للنبي، فسمَّاه عبدَ الرحمن (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7728 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
خیثمہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا نے ان کے والد کا نام ”عزیز“ رکھا تھا، جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے ان کا نام ”عبدالرحمن“ رکھ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7921
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف في الإسناد الأول، ففيه ضعف، لكنه متابع، وظاهر الإسناد الإرسال، لكنه جاء موصولًا من رواية خيثمة بن عبد الرحمن عن أبيه عند غير المصنف كما سيأتي» [ترقيم الرساله 7921] [ترقيم الشركة 7827] [ترقيم العلميه 7728]
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضّل، حدثنا بشير بن ميمون، عن عمه أسامة بن أَخدري: أنَّ رجلًا من بني شَقِرة يُقال له: أَصرَمُ، كان في النَّفر الذين أتَوُا النبيَّ ﷺ، فأتاه بغلامٍ له حَبَشي اشتراه بتلك البلاد، فقال: يا رسولَ الله، إنّي اشتريتُ هذا، فأحببتُ أن تُسمِّيَه وتدعوَ له بالبَرَكة، قال: "ما اسمُك؟ " قال: أصرَمُ، قال: "أنت زُرْعةُ، فما تريدُ؟ " قال: أَسْمِ هذا الغلامَ، قال: "فهو عاصمٌ"، وقَبَضَ كفَّه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو شقیرہ کا ایک شخص جسے ”اصرم“ کہا جاتا تھا، وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنے ساتھ ایک حبشی غلام لایا جو اس نے ان علاقوں سے خریدا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے خریدا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام رکھیں اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا کیا نام ہے؟“ اس نے کہا: اصرم (کاٹنے والا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ”زرعہ“ (کاشت کرنے والے) ہو، اب تم کیا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اس غلام کا نام رکھ دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ”عاصم“ (بچانے والا) ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنی مٹھی بند فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل بشير بن ميمون» [ترقيم الرساله 7922] [ترقيم الشركة 7828] [ترقيم العلميه 7729]
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا أبو قُتَيبة سَلْم بن قُتيبة، حدثنا حَمَل بن بَشير بن أبي حَدْرَد، حدثني، عمِّي، عن أبي حَدْرَد، أن النبيَّ ﷺ قال: مَن يَسُوقُ إبلنا هذه؟ " فقام رجلٌ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: فلان قال: "اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: فلان، قال: "اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: ناجيَةُ، قال: "أنت لها فسُقْها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7730 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو حدرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ان اونٹوں کو کون ہانک کر لے جائے گا؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے اپنا نام بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے اپنا نام بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: ناجیہ (نجات پانے والا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کام کے لیے موزوں ہو، تم انہیں ہانک کر لے جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7923
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حَمَل بن بشير ولإبهام عمه» [ترقيم الرساله 7923] [ترقيم الشركة 7829] [ترقيم العلميه 7730]
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا إبراهيم بن سعد، حدثني أبي، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان اسمي في الجاهلية عبدَ عَمرٍو، فسمَّاني رسولُ الله ﷺ عبدَ الرحمن (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7731 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جاہلیت میں میرا نام ”عبد عمرو“ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام ”عبدالرحمن“ رکھ دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7924
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 7924] [ترقيم الشركة 7830] [ترقيم العلميه 7731]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قال الرجل: "ما اسمك؟ " قال: شِهَاب، قال: "أنت هِشَام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإذا الرجلُ هشامُ بن عامر (3) الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7732 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: شہاب (آگ کا شعلہ)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ”ہشام“ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور وہ شخص ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7925
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عمران» [ترقيم الرساله 7925] [ترقيم الشركة 7831] [ترقيم العلميه 7732]
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا المُعلَّى بن أَسدٍ (4) قال: عبد العزيز بن المُختار قال: حدثنا علي بن زيد، عن الحسن، عن هشام بن عامر قال: أتيتُ النبيَّ، ﷺ، فقال: "ما اسمُك؟ " قلت: شِهَاب، قال: "بل أنت هِشامٌ" (5).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: شہاب، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم ہشام ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7926
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن بما قبله
تخریج حدیث «حديث حسن بما قبله، وهذا إسناد ضعيف، علي بن زيد» [ترقيم الرساله 7926] [ترقيم الشركة 7832]
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدثنا أبي، حدثنا عُبيد الله (1) بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن أبيه، عن علي: أنه سمَّى ابنه الأكبر باسم عمِّه حمزةَ، وسمَّى حُسينًا بعمِّه جعفر، فدعا رسولُ الله ﷺ عليًا، فقال: "إنِّي قد أُمِرتُ أن أغيِّرَ اسمَ هذَينِ" فقال: الله ورسولُه أعلمُ، فسمَّاهما حَسنًا وحُسينًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام اپنے چچا کے نام پر ”حمزہ“ رکھا، اور حسین کا نام اپنے چچا کے نام پر ”جعفر“ رکھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان دونوں کے نام بدل دوں“، علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے ان کے نام ”حسن“ اور ”حسین“ رکھ دیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7927
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «حديث حسن إن شاء الله، عبد الله بن محمد بن عقيل وإن كان فيه كلام، إلّا أنَّ هذا الحديث يرويه عن أهل بيته، فحريٌّ أن يكون قد حفظه، والله تعالى أعلم» [ترقيم الرساله 7927] [ترقيم الشركة 7833]