حدیث نمبر: 7922
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضّل، حدثنا بشير بن ميمون، عن عمه أسامة بن أَخدري: أنَّ رجلًا من بني شَقِرة يُقال له: أَصرَمُ، كان في النَّفر الذين أتَوُا النبيَّ ﷺ، فأتاه بغلامٍ له حَبَشي اشتراه بتلك البلاد، فقال: يا رسولَ الله، إنّي اشتريتُ هذا، فأحببتُ أن تُسمِّيَه وتدعوَ له بالبَرَكة، قال: "ما اسمُك؟ " قال: أصرَمُ، قال: "أنت زُرْعةُ، فما تريدُ؟ " قال: أَسْمِ هذا الغلامَ، قال: "فهو عاصمٌ"، وقَبَضَ كفَّه (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7729 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو شقیرہ کا ایک شخص جسے ”اصرم“ کہا جاتا تھا، وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اپنے ساتھ ایک حبشی غلام لایا جو اس نے ان علاقوں سے خریدا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اسے خریدا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام رکھیں اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا کیا نام ہے؟“ اس نے کہا: اصرم (کاٹنے والا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ”زرعہ“ (کاشت کرنے والے) ہو، اب تم کیا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: اس غلام کا نام رکھ دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ”عاصم“ (بچانے والا) ہے“ اور آپ ﷺ نے اپنی مٹھی بند فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل بشير بن ميمون» [ترقيم الرساله 7922] [ترقيم الشركة 7828] [ترقيم العلميه 7729]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل بشير بن ميمون.
درجۂ حدیث: بشیر بن میمون کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (4954) عن مسدد بن مسرهد، بهذا الإسناد مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4954) نے مسدد بن مسرہد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
قال الخطّابي: إنما غير اسم الأصرم لما فيه من معنى الصَّرم، وهو القطيعة، يقال: صرمتُ الحبل: إذا قطعتَه، وصرمتُ النخلة: إذا جَدَدتَ ثمرها. وإنما غيَّره لأنَّ فيه إيهام انقطاع الخير والبركة، وزُرْعة مشعرٌ بهما، لأنه من الزراعة، ويحصل بها الخير والبركة.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام خطابی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے 'اصرم' کا نام اس لیے تبدیل کیا کیونکہ اس میں 'صرم' یعنی قطع کرنے (کاٹنے) کا معنی پایا جاتا ہے۔ جب رسی کاٹ دی جائے تو کہتے ہیں 'صرمت الحبل' اور جب کھجور کا پھل توڑ لیا جائے تو کہتے ہیں 'صرمت النخلة'۔
اہم نکتہ: یہ نام اس لیے بدلا گیا کیونکہ اس میں خیر و برکت کے انقطاع (ختم ہونے) کا وہم ہوتا ہے، جبکہ 'زرعہ' کا نام ان دونوں (خیر و برکت) کی علامت ہے کیونکہ یہ 'زراعت' سے ہے جس سے برکت حاصل ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7922 سے ماخوذ ہے۔