کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت اختیار نہ کرو
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة ومنصور وسليمان وحُصَين بن عبد الرحمن، قالوا سمعنا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّث عن جابر بن عبد الله قال: وُلِدَ للأنصار ولدٌ فأرادوا أن يسمُّوه محمدًا، فأتَوا به رسولَ الله ﷺ، فقال: "أحسنَتِ الأنصارُ، تَسمَّوا باسمي ولا تَكْتَنُوا بكُنْيتي، فإنما بُعِثتُ قاسِمًا أَقسِمُ بينكم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: انصار کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام ”محمد“ رکھنے کا ارادہ کیا، وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصار نے بہت اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت اختیار نہ کرو، کیونکہ میں «قَاسِمًا» ”تقسیم کرنے والا“ بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ تمہارے درمیان تقسیم کروں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور ان دونوں نے اس میں جریر کی منصور سے روایت پر اتفاق کیا ہے لیکن اس سیاق کے ساتھ نہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7928
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7928] [ترقيم الشركة 7834]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، حدثنا بِشر بن عمر الزَّهراني. قال (1): وحدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد؛ قالا: حدثنا شُعبة، عن سليمان وحُصَين ومنصور وقَتَادة، سمعوا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّثُ عن جابر بن عبد الله، عن النبيِّ ﷺ، مثلَه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7735 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7929
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 7929] [ترقيم الشركة 7835] [ترقيم العلميه 7735]
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسّان قالا: حدثنا فِطْر بن خَليفة، حدثني مُنذر الثَّوري قال: سمعتُ محمد ابن الحنفية يقول: سمعتُ أبي يقول: قلتُ: يا رسول الله، أرأيت إن وُلِدَ لي بعدَك ولد، أُسمِّيه باسمِك، وأُكنِّيه بكُنيتِك؟ قال: "نَعَمْ". قال عليٌّ: فكانت هذه رُخصةً لي (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولعلَّ متوهِّمًا يتوهَّم أنَّ الشيخين لم يُخرجا عن فِطر، وليس كذلك، فإنهما قد قَرَنا بينه وبين آخر في إسناد واحد. قد ذكر بعضُ أئمتنا في هذا الموضع بابًا كبيرًا في إباحة دعاء الرجل امرأتَه باسمها خلاف قول العامة: إنه غير جائز. وأورد فيه أخبارًا كثيرة في قول النبي ﷺ: "يا عائشة" و يا عائشُ" و"يا أمَّ سَلَمة"، وتركتُها (1) لاتفاقِهما على أكثرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7737 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
محمد بن حنفیہ اپنے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کے بعد اگر میرے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو، تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ میرے لیے ایک خاص رخصت تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور شاید کسی کو یہ وہم ہو کہ شیخین نے فطر (راوی) سے روایت نہیں کی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، ان دونوں نے ایک ہی سند میں اسے کسی دوسرے راوی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے۔ ائمہ نے یہاں ایک بڑا باب اس بارے میں ذکر کیا ہے کہ آدمی کا اپنی بیوی کو اس کے نام سے پکارنا جائز ہے (عام لوگوں کے اس خیال کے برعکس کہ یہ جائز نہیں)، اس سلسلے میں آپ ﷺ کا سیدہ عائشہ کو ”یا عائشہ“ اور ”یا عائش“ اور سیدہ ام سلمہ کو ”یا ام سلمہ“ کہنا ثابت ہے لیکن میں نے انہیں طوالت سے بچنے کے لیے چھوڑ دیا ہے کیونکہ شیخین نے ان میں سے اکثر پر اتفاق کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7930
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو غسان هو مالك بن إسماعيل النهدي. وأخرجه أحمد 2/ (730)، وأبو داود (4967)، والترمذي (2843) من طرق عن فطر بن خليفة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث صحيح. وذكر ابن القيم في "زاد المعاد" 2/ 245» [ترقيم الرساله 7930] [ترقيم الشركة 7836] [ترقيم العلميه 7737]