المستدرك على الصحيحين
كتاب الأدب— ادب کے بارے میں روایات
تَفَاؤُلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَسْمَاءِ باب: نبی کریم ﷺ کا ناموں سے اچھا شگون (فال) لینا
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو الربيع الزَّهراني، حدثنا أبو قُتَيبة سَلْم بن قُتيبة، حدثنا حَمَل بن بَشير بن أبي حَدْرَد، حدثني، عمِّي، عن أبي حَدْرَد، أن النبيَّ ﷺ قال: مَن يَسُوقُ إبلنا هذه؟ " فقام رجلٌ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: فلان قال: "اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: فلان، قال: "اجلِسْ"، ثم قام آخرُ فقال: أنا، فقال: "ما اسمُك؟ " قال: ناجيَةُ، قال: "أنت لها فسُقْها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7730 - صحيحابو حدرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ان اونٹوں کو کون ہانک کر لے جائے گا؟“ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے اپنا نام بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے اپنا نام بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: میں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: ناجیہ (نجات پانے والا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کام کے لیے موزوں ہو، تم انہیں ہانک کر لے جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حمل بن بشیر کے مجہول ہونے اور ان کے چچا کے مبہم ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (812)، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني" (2370)، والروياني في مسنده (1479)، والطبراني في "الكبير" 22/ (886) من طريق محمد بن المثنى، عن سلم بن قتيبة بهذا الإسناد. وقرن ابن أبي عاصم بمحمد بن المثنى عقبةَ بن مكرم. ووقع في بعض هذه المصادر تحريفات.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "الادب المفرد" (812)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (2370)، رویانی نے "مسند" (1479) اور طبرانی نے "الکبیر" (22/ 886) میں محمد بن مثنیٰ عن سلم بن قتیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن ابی عاصم نے محمد بن مثنیٰ کے ساتھ عقبہ بن مکرم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان میں سے بعض مصادر میں کچھ تحریفات واقع ہوئی ہیں۔