حدیث نمبر: 7925
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن زُرَارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ قال الرجل: "ما اسمك؟ " قال: شِهَاب، قال: "أنت هِشَام" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وإذا الرجلُ هشامُ بن عامر (3) الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7732 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: شہاب (آگ کا شعلہ)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ”ہشام“ ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور وہ شخص ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7925
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عمران» [ترقيم الرساله 7925] [ترقيم الشركة 7831] [ترقيم العلميه 7732]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل عمران - وهو ابن داور - القطان أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي، وسعد بن هشام: هو ابن عامر الأنصاري.
درجۂ حدیث: عمران بن داور القطان کی وجہ سے سند حسن ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو مسلم سے مراد "ابراہیم بن عبد اللہ بن مسلم الکجی" ہیں اور سعد بن ہشام سے مراد "سعد بن ہشام بن عامر الانصاری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 41/ (24465)، وابن حبان (5823) من طريق أبي داود الطيالسي، عن عمران القطان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/ 24465) اور ابن حبان (5823) نے ابوداؤد طیالسی عن عمران القطان کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
اہم نکتہ: اس کے بعد والی بحث ملاحظہ کریں۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمرو.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں تحریف ہو کر "عمرو" لکھا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7925 سے ماخوذ ہے۔