کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم ہم عمر تھے
حدثني إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حَدَّثَنَا أبو حاتم قال: حدثني إبراهيم بن المنذر، حدثني محمد بن طَلْحة التَّيْمي، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة قال: كان عليٌّ وطلحةُ والزُّبيرُ وسعدُ بن أبي وقّاص كان يُقال: لِدَاتُ عامٍ واحد، قال إبراهيم: وُلِدوا في عامٍ واحد (4).
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ سب ایک ہی سال پیدا ہوئے تھے، ابراہیم کہتے ہیں کہ وہ سب واقعی ایک ہی سال پیدا ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكَير بن عبد الله بن الأشجِّ حدَّثَه عن بُسْر بن سعيد، أنه قال: كنا نجالسُ سعدَ بنَ أبي وقّاص، وكنا نتحدَّث حديثَ الناس والجهاد، وكان يتساقطُ في ذلك الحديثَ عن رسول الله ﷺ (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6108 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6108 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
بسر بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے اور ہم لوگوں کے حالات اور جہاد کے بارے میں گفتگو کرتے تھے، اس گفتگو کے دوران وہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث بیان کر دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن العبّاس الشَّهيد، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن علي بن رَزِين، حَدَّثَنَا علي بن خَشرَم، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، حَدَّثَنَا شُعبة، عن سعد بن إبراهيم، حدثني أَبي - أو إحدى خالتيَّ -: أنَّ سعدًا سُئِلَ عن شيء أو حديثٍ فاستعَجَم، ثم قال: إني لأَكرهُ أن أحدِّثَكم حديثًا تزيدون فيه مئةً (1).
حافظ طلحہ بابر
سعد بن ابراہیم اپنے والد یا اپنی ایک خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کسی چیز یا حدیث کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کی، پھر فرمایا: ”میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں کوئی حدیث سناؤں اور تم اس میں اپنی طرف سے سو باتوں کا اضافہ کر دو۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن السائب بن يزيد قال: صَحِبتُ سعدَ بنَ أبي وقّاص كذا وكذا سنةً، غير أنه قد أَكثر، فلم أسمعه يحدِّثُ عن رسول الله ﷺ إلا حديثًا واحدًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6110 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6110 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سائب بن یزید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک طویل عرصے تک سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، اگرچہ ان کے پاس بہت سا علمی ذخیرہ تھا مگر میں نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے سوائے ایک حدیث کے (کثرت سے) کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجهم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، حدَّثه عن المهاجِر بن مِسْمار، عن سعد قال: أسلمتُ يومَ أسلمتُ وما فَرَضَ اللهُ الصلواتِ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جس دن اسلام لایا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نمازیں فرض نہیں کی تھیں۔
قال ابن عمر: وشَهِدَ معه بدرًا وأُحدًا، وثَبَتَ يوم أُحد مع رسول الله ﷺ حين ولَّى الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والحُديبيةَ وخيبرَ وفتحَ مكة، وكانت معه يومئذٍ إحدى راياتِ المهاجرين الثلاث، وشَهِدَ مع رسول الله ﷺ المشاهدَ كلُّها، وكان من الرُّماة المذكورين من أصحاب رسول الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی، اور احد کے دن جب لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، انہوں نے غزوہ خندق، حدیبیہ، خیبر اور فتح مکہ میں بھی شرکت کی، اس دن مہاجرین کے تین جھنڈوں میں سے ایک ان کے پاس تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں حصہ لیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں نامور تیر اندازوں میں سے تھے۔
فحدثني محمدُ بن نِجَاد (3)، عن عائشةَ بنت سعد، عن أبيها سعد بن أبي وقّاص أنه قال: ألَا أَنبِئْ رسولَ الله أنِّي … حَميتُ صَحابتي بصُدورِ نَبْلي أذُودُ بها عدوَّهُمُ ذِيادًا … بكلِّ حَزُونةٍ وبكلِّ سَهْلِ فما يَعتدُّ رامٍ من مَعَدٍّ … بسَهْمٍ معْ رسولِ الله قَبْلي (4)
حافظ طلحہ بابر
عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے (اشعار میں) کہا: ”کیا میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر نہ دوں کہ میں نے اپنے تیروں کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی حفاظت کی، میں ان تیروں کے ذریعے دشمن کو ہر دشوار گزار اور ہموار راستے سے دور بھگاتا رہا، قبیلہ معد کا کوئی بھی تیر انداز مجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں تیر چلانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔“
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عبدُ الله بن محمد بن ناجيَة، حَدَّثَنَا علي بن سعيد الكِنْدي، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي، عن جابر قال: كنا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ، فأقبَلَ سعدُ بن أبي وقّاص، فقال النَّبِيّ ﷺ: "هذا خالي، فلْيُرِ امرُوٌ خالَه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6113 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6113 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، پس ہر شخص کو چاہیے کہ وہ مجھے اپنے ماموں دکھائے (جو ان جیسے ہوں)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔