حدیث نمبر: 6232
فحدثني محمدُ بن نِجَاد (3)، عن عائشةَ بنت سعد، عن أبيها سعد بن أبي وقّاص أنه قال: ألَا أَنبِئْ رسولَ الله أنِّي … حَميتُ صَحابتي بصُدورِ نَبْلي أذُودُ بها عدوَّهُمُ ذِيادًا … بكلِّ حَزُونةٍ وبكلِّ سَهْلِ فما يَعتدُّ رامٍ من مَعَدٍّ … بسَهْمٍ معْ رسولِ الله قَبْلي (4)
حافظ طلحہ بابر

عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے (اشعار میں) کہا: ”کیا میں رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر نہ دوں کہ میں نے اپنے تیروں کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی حفاظت کی، میں ان تیروں کے ذریعے دشمن کو ہر دشوار گزار اور ہموار راستے سے دور بھگاتا رہا، قبیلہ معد کا کوئی بھی تیر انداز مجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں تیر چلانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6232
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن نجاد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن نجاد، وأما محمد بن عمر الواقدي فقد تابعه معن ابن عيسى فيما سلف عند المصنّف برقم (2504).» [ترقيم الرساله 6232] [ترقيم الشركة 6169]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) هكذا أُعجم في (ز) وحدها بالنون، وأُهمل في بقية النسخ، وذكره الذهبي في "مشتبه النسبة" ومن تبعه بالباء في أوله مكسورة، وذكر الخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 6/ 621 و 13/ 146 عن أبي طالب عمر بن إبراهيم الزهري - من أحفاد محمد هذا - أنه قال: أهل المعرفة بالنسب يقولون في نسبي: نجاد بن موسى بالنون، وأصحاب الحديث يقولون: بجاد، بالباء.
فنی نکتہ / علّت: صرف نسخہ (ز) میں یہ نام 'نون' کے ساتھ (نجاد) ہے، باقی نسخوں میں بغیر نقطوں کے ہے۔ علامہ ذہبی نے اسے 'باء' کے ساتھ (بجاد) لکھا ہے، جبکہ خطیب بغدادی نے ان کی نسل سے ایک راوی کا قول نقل کیا ہے کہ: "ماہرینِ انساب 'نجاد' (نون کے ساتھ) کہتے ہیں جبکہ محدثین 'بجاد' (باء کے ساتھ) کہتے ہیں"۔
(4) إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن نجاد، وأما محمد بن عمر الواقدي فقد تابعه معن ابن عيسى فيما سلف عند المصنّف برقم (2504).
درجۂ حدیث: محمد بن نجاد کے 'مجہول الحال' ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
متابعات و شواہد: البتہ واقدی کی متابعت معن بن عیسیٰ نے کی ہے جو مصنف کے ہاں رقم (2504) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6232 سے ماخوذ ہے۔