المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ عَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ لِدَاتُ عَامٍ وَاحِدٍ باب: سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم ہم عمر تھے
حدیث نمبر: 6231
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجهم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، حدَّثه عن المهاجِر بن مِسْمار، عن سعد قال: أسلمتُ يومَ أسلمتُ وما فَرَضَ اللهُ الصلواتِ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جس دن اسلام لایا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نمازیں فرض نہیں کی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه بين مهاجر بن مسمار وسعد، وأبو بكر بن إسماعيل مجهول لا يعرف روى عنه غير محمد بن عمر الواقدي، والواقدي متكلَّم فيه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ایک تو مہاجر بن مسمار اور حضرت سعد کے درمیان 'انقطاع' ہے، دوسرا ابو بکر بن اسماعیل 'مجہول' ہیں جن سے صرف واقدی نے روایت کیا ہے، اور واقدی خود بھی 'متکلم فیہ' (جرح زدہ) راوی ہیں۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 3/ 129، ومن طريقه ابن عساكر 20/ 299.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 129) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (20/ 299) نے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6236).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں آگے آنے والی حدیث رقم (6236) بھی ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ایک تو مہاجر بن مسمار اور حضرت سعد کے درمیان 'انقطاع' ہے، دوسرا ابو بکر بن اسماعیل 'مجہول' ہیں جن سے صرف واقدی نے روایت کیا ہے، اور واقدی خود بھی 'متکلم فیہ' (جرح زدہ) راوی ہیں۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 3/ 129، ومن طريقه ابن عساكر 20/ 299.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 129) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (20/ 299) نے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6236).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں آگے آنے والی حدیث رقم (6236) بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6231 سے ماخوذ ہے۔