❮
❯
حدیث نمبر: 6231
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجهم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، حدَّثه عن المهاجِر بن مِسْمار، عن سعد قال: أسلمتُ يومَ أسلمتُ وما فَرَضَ اللهُ الصلواتِ (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جس دن اسلام لایا اس وقت اللہ تعالیٰ نے نمازیں فرض نہیں کی تھیں۔

قال ابن عمر: وشَهِدَ معه بدرًا وأُحدًا، وثَبَتَ يوم أُحد مع رسول الله ﷺ حين ولَّى الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والحُديبيةَ وخيبرَ وفتحَ مكة، وكانت معه يومئذٍ إحدى راياتِ المهاجرين الثلاث، وشَهِدَ مع رسول الله ﷺ المشاهدَ كلُّها، وكان من الرُّماة المذكورين من أصحاب رسول الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر (واقدی) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی، اور احد کے دن جب لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، انہوں نے غزوہ خندق، حدیبیہ، خیبر اور فتح مکہ میں بھی شرکت کی، اس دن مہاجرین کے تین جھنڈوں میں سے ایک ان کے پاس تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں حصہ لیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں نامور تیر اندازوں میں سے تھے۔

حوالہ حدیث مستدرکِ حاکم / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6231
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه بين مهاجر بن مسمار وسعد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه بين مهاجر بن مسمار وسعد، وأبو بكر بن إسماعيل مجهول لا يعرف روى عنه غير محمد بن عمر الواقدي، والواقدي متكلَّم فيه.» [ترقيم الرساله 6231] [ترقيم الشركة 6168]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه بين مهاجر بن مسمار وسعد، وأبو بكر بن إسماعيل مجهول لا يعرف روى عنه غير محمد بن عمر الواقدي، والواقدي متكلَّم فيه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ایک تو مہاجر بن مسمار اور حضرت سعد کے درمیان 'انقطاع' ہے، دوسرا ابو بکر بن اسماعیل 'مجہول' ہیں جن سے صرف واقدی نے روایت کیا ہے، اور واقدی خود بھی 'متکلم فیہ' (جرح زدہ) راوی ہیں۔
ورواه عن الواقدي ابن سعد في "الطبقات" 3/ 129، ومن طريقه ابن عساكر 20/ 299.
حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 129) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (20/ 299) نے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6236).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں آگے آنے والی حدیث رقم (6236) بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6231 سے ماخوذ ہے۔