کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، اُحدی، شجری، عقبی اور نقیب تھے
سمعتُ أبا بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، يقول: سمعت عبد الله بن أحمد يقول: سمعتُ أبي يقول: سمعت سفيان بن عُيَينة يقول: عُبادةُ بن الصامِت بَدْريٌّ أُحُدِيّ عَقَبِيّ شَجَرِيّ، وهو نَقِيبٌ (3).
حافظ طلحہ بابر
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، احدی، عقبی، اور شجری (بیعتِ رضوان میں درخت کے نیچے شریک ہونے والے) صحابی ہیں، اور وہ نقیب بھی ہیں۔
أخبرني محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، قال: سمعت أحمد بن حنبل يقول: عُبادة بن الصامِت بَدْريّ أُحُدِيٌّ شَجَرِيٌّ عَقَبِيّ نَقِيبٌ.
حافظ طلحہ بابر
احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، احدی، شجری، عقبی اور نقیب ہیں۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن خالد، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُروة، في تَسمية الذين شهِدوا العقبةَ، فبايَعُوا رسولَ الله ﷺ، قال: ومن بني عَوف ثم من بني سالم بن قَوْقَل (4) عُبادةُ بن الصامت، وهو نَقِيب، وقد شهِد بدرًا (5).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے بیعتِ عقبہ میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی بیعت کرنے والوں کے ناموں کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا: بنو عوف اور پھر بنو سالم بن قوقل میں سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ شامل تھے، اور وہ نقیب (سردار) تھے، اور انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميديّ، حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن طاووس، عن أبيه، عن عُبادة بن الصامت: أنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَه على الصَّدَقات، فقال: "يا أبا الوليد" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5514 - منقطع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5514 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
ابن طاؤس اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقات (کی وصولی) پر مقرر فرمایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو الولید!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد الفَرْهاذاني، حَدَّثَنَا هَنّاد بن السَّرِيّ، حَدَّثَنَا عَبْدة بن سُليمان، عن محمد بن عَمرو، عن محمد بن يحيى بن حبّان، عن ابن مُحَيرِيزٍ، عن المُخْدَجِيّ قال: قيل لعُبادة بن الصامت: يا أبا الوليد (1).
حافظ طلحہ بابر
مخدجی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ”اے ابو الولید“ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران الأصبَهاني، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سفيان، عن ثَوْر بن يَزِيد، عن مَكحُول، قال: كان عُبادةُ بن الصامت وشَدَّادُ بن أوسٍ يَسكُنان بيتَ المَقدِسِ، وكان عبادةُ يُكنى أبا الوليد (1).
حافظ طلحہ بابر
مکحول سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہما بیت المقدس میں رہائش پذیر تھے، اور عبادہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو الولید تھی۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثني يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني مَعْبَد بن كعب بن مالك، أخو بني سَلِمة، عن أخيه عبد الله بن كعب، عن أبيه كعب بن مالك، قال: خَرجْنا في الحَجَّة التي بايَعْنا فيها رسولَ الله ﷺ في العَقَبة، فكان نَقِيبَ بني عَوف بن الحارث عبادةُ بنُ الصامت (2).
حافظ طلحہ بابر
معبد بن کعب بن مالک اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے اور وہ اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم اس حج میں نکلے جس میں ہم نے مقامِ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، تو اس وقت بنو عوف بن حارث کے نقیب (سردار) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا إبراهيم بن نائِلةَ الأصبهَاني، حَدَّثَنَا عُبيد بن عَبِيدة، حَدَّثَنَا المُعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن [ابن] (3) عُبادةَ بن الصامِت، عن أبيه: أنَّ معاوية قال لهم: يا مَعْشَرَ الأنصار، ما لكم لم تَلَقَّوني مع إخوانِكم من قُريش، قال عُبادة: الحاجَةُ، قال: فهَلّا على النَّواضِحِ، قال: أَمَضّيناها (1) يومَ بدرٍ مع رسول الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
عطاء بن سائب عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اور وہ اپنے والد (عبادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان (انصار) سے پوچھا: ”اے گروہِ انصار! تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ میرا استقبال کرنے نہیں آئے؟“ عبادہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”ہماری حاجت (غربت اور ضرورت) کی وجہ سے۔“ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو پھر تم اپنے پانی پلانے والے اونٹوں پر کیوں نہیں آئے؟“ عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم انہیں بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کی معیت میں تھکا (کر ختم کر) چکے ہیں۔“
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن غالِب، حَدَّثَنَا هارون بن معروف، حَدَّثَنَا ضَمْرة بن ربيعة، عن يعقوب بن عطاء، قال: قُبِرَ عبادةُ بن الصامت وعامرُ بن عبد الله ببيتِ المَقْدِس (3).
حافظ طلحہ بابر
یعقوب بن عطاء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عبادہ بن صامت اور عامر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔
حدثني أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحُسين، حَدَّثَنَا أبو مُسهِر، حَدَّثَنَا عَبّادٌ الخَوّاص، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن أبي سَلّام الأسودِ، قال: كنتُ إذا أتيتُ بيتَ المَقدِس نزلتُ على عُبادةَ بن الصامت (1).
حافظ طلحہ بابر
ابو سلام اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں جب بھی بیت المقدس آتا تھا تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہاں قیام کرتا تھا۔
أخبرني عبد الله بن غانِم، حَدَّثَنَا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، قال: مات عُبادةُ بن الصامِت بالشام في أرض فلسطين بالرَّمْلة، سنة أربع وثلاثين، وهو ابن اثنتين وسبعين سنة (1).
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وفات چونتیس (34) ہجری میں شام کے علاقے فلسطین میں مقامِ رملہ میں ہوئی، اور اس وقت ان کی عمر بہتر (72) سال تھی۔
حدثني أبو عبد الله محمد بن العباس الشَّهيد ﵀، حَدَّثَنَا أحمد بن علي بن رَزِين، حَدَّثَنَا محمد بن عَمْرَوَيهِ، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِيّ، قال: تُوفي عبادة بن الصامِت ببيت المَقدِس، ودُفن بها سنة أربع وثلاثين، وهو ابن اثنتين وسبعين سنة (2).
حافظ طلحہ بابر
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وفات بیت المقدس میں ہوئی، اور وہیں چونتیس (34) ہجری میں دفن کیے گئے، اور اس وقت ان کی عمر بہتر (72) سال تھی۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حَدَّثَنَا محمد بن مبارَك الصُّوري، حَدَّثَنَا يحيى بن حمزة، حَدَّثَنَا بُرْد بن سِنانٍ، عن إسحاق بن قَبِيصة بن ذُؤيب، عن أبيه: أنَّ عبادة بن الصامِتِ أَنكَرَ على مُعاويةَ أشياءَ، ثم قال له: لا أُساكِنُك بأرضٍ، فرحَل إلى المدينة، فقال له عمرُ: ما أقدَمَك إليَّ، لا يفتحُ (1) الله أرضًا لستَ فيها أنت وأمثالُك، فانصَرِفْ لا إمرةَ لمعاويةَ عليكَ (2).
حافظ طلحہ بابر
قبیصہ بن ذویب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بعض باتوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور ان سے فرمایا: ”میں اس سرزمین پر آپ کے ساتھ نہیں رہوں گا۔“ چنانچہ وہ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ”آپ کو میرے پاس آنے پر کس چیز نے مجبور کیا؟ اللہ تعالیٰ اس سرزمین کو کبھی فتح و نصرت نہ دے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ موجود نہ ہوں۔ آپ واپس تشریف لے جائیے، معاویہ کی تم پر کوئی امارت (حکومت) نہیں ہے۔“