المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، اُحدی، شجری، عقبی اور نقیب تھے
حدیث نمبر: 5608
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يُونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق في تسمية السبعين الذين شهِدُوا العَقَبة، قال: ومن بني سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن الخَزْرج: عُبادةُ بنُ الصامت بن قيس بن أصْرَمَ بن فِهْر (1) بن ثَعلبةَ بن غَنْم بن سالم، نَقيبٌ، شهد بدرًا والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2).
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے بیعتِ عقبہ میں شریک ہونے والے ستر افراد کے ناموں کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا: بنو سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج میں سے عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن سالم (رضی اللہ عنہ) شامل تھے۔ وہ نقیب (سردار) تھے، اور انہوں نے غزوہ بدر اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: بهز، بالباء أوله والزاي في آخره، والمثبت على الصواب من سائر الروايات عن ابن إسحاق، وهو كذلك في كتب الأنساب.
نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں یہ لفظ "بهز" (شروع میں با اور آخر میں زا کے ساتھ) ہو گیا ہے، مگر درست وہی ہے جو ابن اسحاق کی دیگر روایات اور کتبِ انساب میں ثابت ہے۔
(2) وهو عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 187 من طريق رضوان بن أحمد، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن عساکر کی "تاريخ دمشق" (26/ 187) میں رضوان بن احمد عن احمد بن عبد الجبار کی سند سے موجود ہے۔
وهو عند ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 464، وهي من روايته عن زياد البكائي عن ابن إسحاق. وعند ابن عساكر 26/ 190 من طريق يحيى بن سعيد الأموي عن ابن إسحاق.
حوالہ / مصدر: یہ ابن ہشام کی "السيرة النبوية" (1/ 464) میں زیاد البکائی عن ابن اسحاق کی روایت سے ہے، اور ابن عساکر (26/ 190) میں یحییٰ بن سعید الاموی عن ابن اسحاق کے طریق سے ہے۔
نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں یہ لفظ "بهز" (شروع میں با اور آخر میں زا کے ساتھ) ہو گیا ہے، مگر درست وہی ہے جو ابن اسحاق کی دیگر روایات اور کتبِ انساب میں ثابت ہے۔
(2) وهو عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 187 من طريق رضوان بن أحمد، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
حوالہ / مصدر: یہ روایت ابن عساکر کی "تاريخ دمشق" (26/ 187) میں رضوان بن احمد عن احمد بن عبد الجبار کی سند سے موجود ہے۔
وهو عند ابن هشام في "السيرة النبوية" 1/ 464، وهي من روايته عن زياد البكائي عن ابن إسحاق. وعند ابن عساكر 26/ 190 من طريق يحيى بن سعيد الأموي عن ابن إسحاق.
حوالہ / مصدر: یہ ابن ہشام کی "السيرة النبوية" (1/ 464) میں زیاد البکائی عن ابن اسحاق کی روایت سے ہے، اور ابن عساکر (26/ 190) میں یحییٰ بن سعید الاموی عن ابن اسحاق کے طریق سے ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5608 سے ماخوذ ہے۔