المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: بَدْرِيٌّ، أُحُدِيٌّ، شَجَرِيٌّ، عَقَبِيٌّ، نَقِيبٌ باب: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بدری، اُحدی، شجری، عقبی اور نقیب تھے
حدیث نمبر: 5615
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثني يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، حدثني مَعْبَد بن كعب بن مالك، أخو بني سَلِمة، عن أخيه عبد الله بن كعب، عن أبيه كعب بن مالك، قال: خَرجْنا في الحَجَّة التي بايَعْنا فيها رسولَ الله ﷺ في العَقَبة، فكان نَقِيبَ بني عَوف بن الحارث عبادةُ بنُ الصامت (2).
حافظ طلحہ بابر
معبد بن کعب بن مالک اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے اور وہ اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم اس حج میں نکلے جس میں ہم نے مقامِ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، تو اس وقت بنو عوف بن حارث کے نقیب (سردار) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.
درجۂ حدیث: یہ سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے حسن ہے۔
وأخرج القصة بطولها الطبراني في "الكبير" 19/ (174) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، عن محمد بن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد. لكن وقع عنده: عن أخيه عُبيد الله بن كعب؛ وعبد الله وعبيد الله أخوان وكلاهما ثقة.
حوالہ / مصدر: طبرانی نے "الكبير" 19/ (174) میں اس قصے کو تفصیلاً روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وہاں سند میں "عبید اللہ بن کعب" ہے، جبکہ عبد اللہ اور عبید اللہ دونوں بھائی ہیں اور دونوں ہی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجها كذلك البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 444 من طريق أحمد بن عبد الجبار، عن يونس بن بكير، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوة" (2/ 444) میں احمد بن عبد الجبار عن یونس بن بکیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
ومن طريق جرير بن حازم، عن ابن إسحاق.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت جریر بن حازم کے طریق سے محمد بن اسحاق سے مروی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے حسن ہے۔
وأخرج القصة بطولها الطبراني في "الكبير" 19/ (174) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، عن محمد بن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد. لكن وقع عنده: عن أخيه عُبيد الله بن كعب؛ وعبد الله وعبيد الله أخوان وكلاهما ثقة.
حوالہ / مصدر: طبرانی نے "الكبير" 19/ (174) میں اس قصے کو تفصیلاً روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: وہاں سند میں "عبید اللہ بن کعب" ہے، جبکہ عبد اللہ اور عبید اللہ دونوں بھائی ہیں اور دونوں ہی ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجها كذلك البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 444 من طريق أحمد بن عبد الجبار، عن يونس بن بكير، به.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوة" (2/ 444) میں احمد بن عبد الجبار عن یونس بن بکیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
ومن طريق جرير بن حازم، عن ابن إسحاق.
حوالہ / مصدر: اور یہ روایت جریر بن حازم کے طریق سے محمد بن اسحاق سے مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5615 سے ماخوذ ہے۔