کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا أبو بكر يحيى (1) بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني سُلَيم بن عامر، سمعت أبا أُمامةَ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ وهو يَخطُبُ الناسَ على ناقته الجَدْعاء في حَجَّة الوداع، يقول: "يا أيها الناس، أَطيعوا ربَّكم، وصلُّوا خَمْسَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وصومُوا شهرَكم، وأَطيعُوا ذا أمرِكم؛ تَدخُلوا جنةَ ربِّكم". قلتُ لأبي أُمامة: منذُ كم سمعتَ هذا الحديث؟ قال: سمعتُه وأنا ابنُ ثلاثين سنة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، اپنی پانچ وقت کی نمازیں ادا کرو، اپنے مالوں کی زکات دو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو؛ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے یہ حدیث کب سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ تب سنی تھی جب میں تیس سال کا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1759
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1759] [ترقيم الشركة 1747]
أخبرنا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثنا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ وعطاءٍ، عن جابر بن عبد الله قال: كَثُرَت القالةُ من الناس، فخرجنا حُجّاجًا، حتى إذا لم يكن بيننا وبين أن نَحِلَّ إلَّا ليالي (3) قلائلُ أُمِرْنا بالإحلال، فيَرُوحُ أحدُنا إلى عَرَفَة وفَرْجُه يَقطُرُ مَنيًّا، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقام خطيبًا فقال: "أبالله تُعَلِّموني أيها الناسُ، فأنا واللهِ أعلَمُكُم بالله وأتقاكم له، ولو استقبلتُ من أَمري ما استَدبرتُ ما سُقْتُ هَدْيًا، ولَحَلَلتُ كما أحَلُّوا، فمَن لم يكن معه هديٌ فليصمْ ثلاثةَ أيامٍ وسبعةً إذا رَجَعَ إلى أهله، ومن وَجَدَ هديًا فليَنْحَر"، فكنا ننحرُ الجَزُورَ عن سبعة (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں میں چہ میگوئیاں بڑھ گئیں، ہم حج کے ارادے سے نکلے تھے، جب ہمارے حلال ہونے میں چند ہی راتیں باقی رہ گئیں تو ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا گیا، (لوگ کہنے لگے کہ) ہم میں سے کوئی اس حال میں عرفہ جائے گا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں؟ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم مجھے اللہ کے بارے میں سکھاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے بڑھ کر اللہ کو جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں، اور اگر میں پہلے وہ جان لیتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور ویسے ہی حلال ہو جاتا جیسے باقی لوگ ہوئے ہیں، پس جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ تین دن (حج میں) روزے رکھے اور سات دن جب اپنے گھر واپس جائے، اور جسے قربانی میسر ہو وہ اسے ذبح کرے۔“ چنانچہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1760
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد توبع، يحيى بن أيوب: هو المقابري، ووهب بن جرير: هو ابن حازم الأزدي، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، ومجاهد: هو ابن جبر المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1760] [ترقيم الشركة 1748]
قال عطاء (1): قال ابنُ عباس: إنَّ رسول الله ﷺ قَسَمَ يومئذٍ في أصحابه غنمًا، فأصاب سعدَ بنَ أبي وقاصٍ تَيْسٌ، فذَبَحه عن نفسه، فلمّا وقف رسولُ الله ﷺ بعَرَفةَ أَمَرَ ربيعةَ بن أُمية بن خلف فقام تحت يَدَي ناقتِه، فقال له النبيُّ ﷺ: "اصرُخْ: أيها الناس، هل تَدْرُونَ أيُّ شهرٍ هذا؟ " قالوا: الشهرُ الحرام، قال: "فهل تَدرونَ أيُّ بلدٍ هذا؟ " قالوا: البلد الحرام، ثم قال: "هل تَدرونَ أيُّ يومٍ هذا؟ " قالوا: يومُ الحجِّ الأكبر، فقال رسول الله ﷺ: "قد حرَّم الله عليكم دِماءَكم، وأموالَكم كحُرمةِ شهرِكم هذا، وكحُرمةِ بلدِكم هذا، وكحُرمةِ يومِكم هذا"، فقضى رسولُ الله ﷺ حَجَّه، وقال حين وَقَفَ بعَرَفةَ: "هذا الموقفُ، وكلُّ عرفةَ موقفٌ"، وقال حين وقف على قُزَحَ: "هذا الموقفُ، وكلُّ المزدلفةِ موقفٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ من ألفاظِ حديث جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن جابر، وفيه أيضًا زيادةُ ألفاظٍ كثيرة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک مینڈھا آیا جسے انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا کہ وہ آپ کی اونٹنی کے سینے کے پاس کھڑے ہوں، پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”پکار کر کہو: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر، پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: حجِ اکبر کا دن، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح حرام کر دیے ہیں جیسی تمہارے اس مہینے، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے“، غرض رسول اللہ ﷺ نے اپنا حج مکمل کیا اور عرفہ میں وقوف کے وقت فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا عرفہ ہی جائے وقوف ہے“، اور جب آپ مزدلفہ میں قزح کے مقام پر ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا مزدلفہ ہی جائے وقوف ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ طویل حدیث کے الفاظ بھی ہیں اور بہت سے زائد کلمات بھی شامل ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1760M
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.» [ترقيم الرساله 1760M] [ترقيم الشركة 1748/1]
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن حسان، عن أنس بن سِيرين، عن أنس بن مالكٍ أنه قال: لما رَمَى رسول الله ﷺ الجَمْرةَ ونَحَر هَدْيَه، ناوَلَ الحالقَ شِقَّهُ الأَيمنَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ الشِّقَّ الأيسَرَ فحَلَقَه، ثم ناوَلَهُ أبا طلحةَ وأَمره أن يَقْسِمَه بين الناس (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالِک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جمرہ کی رمی کر لی اور اپنی قربانی ذبح کر لی، تو آپ ﷺ نے بال کاٹنے والے کو اپنے سر کا دایاں حصہ پیش کیا، اس نے بال مونڈ دیے، پھر بایاں حصہ پیش کیا، اس نے اسے بھی مونڈ دیا، پھر آپ ﷺ نے وہ بال سیدنا ابوطرحہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائے اور انہیں حکم دیا کہ انہیں لوگوں میں تقسیم کر دیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1761
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، إلّا أنَّ ذكر أنس بن سيرين في هذا الإسناد وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية محمد بن سيرين وليس أنسًا، وذلك لأمور:» [ترقيم الرساله 1761] [ترقيم الشركة 1749]
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أنَّ أبا سَلَمة حدّثه، أنَّ محمد بن عبد الله بن زيد حدّثه: أنَّ أباه شَهِدَ النبيَّ ﷺ عند المَنْحَر هو ورجلٌ من الأنصار، فحَلَقَ رسولُ الله ﷺ رأسَه في ثوبِه، فأعطاه فقَسَمَ منه على رجالٍ، وقلَّم أظفارَه فأعطاه صاحبَه. قالوا: فإنه عندنا مخضوبٌ بالحِنّاء والكَتَم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری شخص نبی کریم ﷺ کے پاس قربان گاہ (منحر) میں حاضر تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر مبارک کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے، پھر وہ بال انہیں دے دیے اور انہوں نے اس میں سے کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیے، اور آپ ﷺ نے اپنے ناخن مبارک تراشے اور وہ اپنے ساتھی کو عطا فرما دیے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بال ہمارے پاس محفوظ ہیں جنہیں مہندی اور کتم (خضاب) سے رنگا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،موسى بن إسماعيل: هو التبوذكي، وأبان بن يزيد: هو العطار، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن، وصحابيه عبد الله بن زيد: هو ابن عبد ربه.» [ترقيم الرساله 1762] [ترقيم الشركة 1750]
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ أفاضَ يومَ النَّحر، ثم رَجَعَ فصلَّى الظُّهرَ بمِنًى، قال نافع: وكان ابنُ عمر يُفيضُ يومَ النَّحر، ثم يَرجعُ فيصلِّي الظُّهرَ بمِنًى، ويَذكُر: أنَّ النبي ﷺ فَعَلَه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کو طوافِ افاضہ کیا، پھر واپس تشریف لائے اور منیٰ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یومِ نحر کو طوافِ افاضہ کرتے تھے، پھر واپس آ کر منیٰ میں ظہر کی نماز پڑھتے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1763
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1763] [ترقيم الشركة 1751]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصرٍ، قال: قُرئ على عبد الله بن وهب، أخبرك ابنُ جُريج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَرْمُلُ في السَّبْع الذي أفاض فيه. وقال عطاء: لا رَمَلَ فيه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طوافِ افاضہ کے سات چکروں میں رمل (پہلوانوں کی طرح تیز چال) نہیں کی۔ عطاء کہتے ہیں کہ اس طواف میں رمل نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1764] [ترقيم الشركة 1752]