حدیث نمبر: 1760
أخبرنا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا أحمد بن النَّضْر بن عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، حدثنا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهدٍ وعطاءٍ، عن جابر بن عبد الله قال: كَثُرَت القالةُ من الناس، فخرجنا حُجّاجًا، حتى إذا لم يكن بيننا وبين أن نَحِلَّ إلَّا ليالي (3) قلائلُ أُمِرْنا بالإحلال، فيَرُوحُ أحدُنا إلى عَرَفَة وفَرْجُه يَقطُرُ مَنيًّا، فبلغ ذلك رسولَ الله ﷺ، فقام خطيبًا فقال: "أبالله تُعَلِّموني أيها الناسُ، فأنا واللهِ أعلَمُكُم بالله وأتقاكم له، ولو استقبلتُ من أَمري ما استَدبرتُ ما سُقْتُ هَدْيًا، ولَحَلَلتُ كما أحَلُّوا، فمَن لم يكن معه هديٌ فليصمْ ثلاثةَ أيامٍ وسبعةً إذا رَجَعَ إلى أهله، ومن وَجَدَ هديًا فليَنْحَر"، فكنا ننحرُ الجَزُورَ عن سبعة (4).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں میں چہ میگوئیاں بڑھ گئیں، ہم حج کے ارادے سے نکلے تھے، جب ہمارے حلال ہونے میں چند ہی راتیں باقی رہ گئیں تو ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا گیا، (لوگ کہنے لگے کہ) ہم میں سے کوئی اس حال میں عرفہ جائے گا کہ اس کی شرمگاہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں؟ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے لوگو! کیا تم مجھے اللہ کے بارے میں سکھاتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے بڑھ کر اللہ کو جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں، اور اگر میں پہلے وہ جان لیتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور ویسے ہی حلال ہو جاتا جیسے باقی لوگ ہوئے ہیں، پس جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ تین دن (حج میں) روزے رکھے اور سات دن جب اپنے گھر واپس جائے، اور جسے قربانی میسر ہو وہ اسے ذبح کرے۔“ چنانچہ ہم ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1760
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد توبع، يحيى بن أيوب: هو المقابري، ووهب بن جرير: هو ابن حازم الأزدي، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، ومجاهد: هو ابن جبر المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1760] [ترقيم الشركة 1748]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) كذا أثبت الياء في حالة الرفع، وهو جائز على قلة استعماله.
توضیح: لفظ 'الياء' کو حالتِ رفع میں ثابت رکھا گیا ہے، جو کہ عربی میں جائز ہے اگرچہ استعمال کم ہے۔
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار - وقد توبع.

يحيى بن أيوب: هو المقابري، ووهب بن جرير: هو ابن حازم الأزدي، وابن أبي نجيح: هو عبد الله، ومجاهد: هو ابن جبر المكي، وعطاء: هو ابن أبي رباح.

درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز ان کی متابعت موجود ہے۔
فنی نکتہ: یحییٰ بن ایوب سے مراد المقابری، وہب بن جریر سے مراد ابن حازم اور ابن ابی نجیح سے مراد عبداللہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 23، وفي "السنن الصغرى" (1718) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے اپنی دونوں کتب (الکبریٰ اور الصغریٰ) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2926) و (2927) عن أحمد بن المقدام، عن وهب بن جرير، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2926) نے وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بقصة الأمر بالإحلال أحمد 23/ (14833) و (14931)، والبخاري (1570)، ومسلم (1216) (146) من طريق أيوب، عن مجاهد وحده، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (1570) اور مسلم نے ایوب عن مجاہد کے طریق سے احرام کھولنے کے حکم کے قصے کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 22/ (14238) و (14239) و (14279) و (14409) و 23/ (14900) و (14942) و (14943)، والبخاري (1568) و (1651) و (1785) و (2505) و (7230) و (7367)، ومسلم (1216)، وأبو داود (1787) و (1788) و (1789)، وابن ماجه (2980)، والنسائي (3773) و (3971) و (4157)، وابن حبان (3791) و (3921) من طرق عن عطاء، عن جابر، وبعضهم يزيد فيه ألفاظًا أخرى ليست عند البعض.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے عطا عن جابرؓ کی سند سے مفصل و مختصر روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14923) من طريق أبي سفيان، عن جابر.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ابو سفیان عن جابرؓ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرج معظمه - يعني بألفاظ حديث جابر هذا، وحديث ابن عباس الآتي بعده - ضمن حديث جابر الطويل في الحج: أحمد 22/ (14440)، ومسلم (1218)، وأبو داود (1905)، وابن ماجه (3074)، وابن حبان (3944) من طريق جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه محمد بن علي الباقر، عن جابر.
تفصیلِ روایت: اس کے اکثر الفاظ امام جعفر صادق عن امام باقر عن حضرت جابرؓ کی اس طویل حدیث میں موجود ہیں جو حج کے متعلق مروی ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7749) من طريق أبي الزبير عن جابر قال: نحرنا يوم الحديبية سبعين بدنة، البدنة عن عشرة، وقال رسول الله ﷺ: ليشترك النفرُ في الهدي"، ويأتي تخريجه هناك.
تکرار: یہ روایت آگے نمبر (7749) پر ابو الزبیر عن جابرؓ کے طریق سے آئے گی کہ ہم نے حدیبیہ کے دن 70 اونٹ ذبح کیے اور ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1760 سے ماخوذ ہے۔