حدیث نمبر: 1760M
قال عطاء (1): قال ابنُ عباس: إنَّ رسول الله ﷺ قَسَمَ يومئذٍ في أصحابه غنمًا، فأصاب سعدَ بنَ أبي وقاصٍ تَيْسٌ، فذَبَحه عن نفسه، فلمّا وقف رسولُ الله ﷺ بعَرَفةَ أَمَرَ ربيعةَ بن أُمية بن خلف فقام تحت يَدَي ناقتِه، فقال له النبيُّ ﷺ: "اصرُخْ: أيها الناس، هل تَدْرُونَ أيُّ شهرٍ هذا؟ " قالوا: الشهرُ الحرام، قال: "فهل تَدرونَ أيُّ بلدٍ هذا؟ " قالوا: البلد الحرام، ثم قال: "هل تَدرونَ أيُّ يومٍ هذا؟ " قالوا: يومُ الحجِّ الأكبر، فقال رسول الله ﷺ: "قد حرَّم الله عليكم دِماءَكم، وأموالَكم كحُرمةِ شهرِكم هذا، وكحُرمةِ بلدِكم هذا، وكحُرمةِ يومِكم هذا"، فقضى رسولُ الله ﷺ حَجَّه، وقال حين وَقَفَ بعَرَفةَ: "هذا الموقفُ، وكلُّ عرفةَ موقفٌ"، وقال حين وقف على قُزَحَ: "هذا الموقفُ، وكلُّ المزدلفةِ موقفٌ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وفيه ألفاظٌ من ألفاظِ حديث جعفر بن محمد الصادق عن أبيه عن جابر، وفيه أيضًا زيادةُ ألفاظٍ كثيرة.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن اپنے صحابہ میں بکریاں تقسیم فرمائیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک مینڈھا آیا جسے انہوں نے اپنی طرف سے ذبح کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ عرفہ میں ٹھہرے تو آپ نے ربیعہ بن امیہ بن خلف کو حکم دیا کہ وہ آپ کی اونٹنی کے سینے کے پاس کھڑے ہوں، پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”پکار کر کہو: اے لوگو! کیا تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟“ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟“ لوگوں نے کہا: حرمت والا شہر، پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: حجِ اکبر کا دن، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح حرام کر دیے ہیں جیسی تمہارے اس مہینے، تمہارے اس شہر اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے“، غرض رسول اللہ ﷺ نے اپنا حج مکمل کیا اور عرفہ میں وقوف کے وقت فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا عرفہ ہی جائے وقوف ہے“، اور جب آپ مزدلفہ میں قزح کے مقام پر ٹھہرے تو فرمایا: ”یہ جائے وقوف ہے اور پورا مزدلفہ ہی جائے وقوف ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ طویل حدیث کے الفاظ بھی ہیں اور بہت سے زائد کلمات بھی شامل ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1760M
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.» [ترقيم الرساله 1760M] [ترقيم الشركة 1748/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هو موصول بالإسناد السابق.
اہم نکتہ: یہ سابقہ سند سے متصل ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند "حسن" ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2926) و (2927) عن أحمد بن المقدام، عن وهب بن جرير، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ نے احمد بن المقدام عن وہب بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (757) عن أبي الأشعث أحمد بن المقدام العجلي، والطبراني في "الكبير" (11399) - وعنه الضياء المقدسي في "المختارة" 11/ (236) - من طريق محمد بن يحيى القطعي، كلاهما عن وهب بن أبي نجيح، عن عطاء، به. ولم يذكر أبو الأشعث عبدَ الله بنَ أبي نجيح، فلا ندري هل هي روايته أم أنه سقطٌ في مطبوعة "الصحابة"؟ ورواه أبو الأشعث مرة عن عبيد بن عقيل عن جرير بن حازم، بالإسناد المذكور، وهو تحويل في سند البغوي (757)، فيبقى الاحتمال قائمًا، والله أعلم.
حوالہ / مصدر: اسے بغوی اور طبرانی (11399) نے وہب بن ابی نجیح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ بغوی کے نسخے میں عبداللہ بن ابی نجیح کا نام ساقط ہے، ممکن ہے یہ مطبع کی غلطی ہو۔
وأخرج أحمد 5/ (2802) من طريق ابن جريج قال: أخبرني عكرمة مولى ابن عباس، زعم أن ابن عباس أخبره: أن النبيَّ ﷺ قسم غنمًا يوم النحر في أصحابه، وقال: "اذبحوها لعمرتكم، فإنها تجزئ عنكم" فأصاب سعد بن أبي وقاص تيسًا. وهذا إسناد منقطع؛ فإن ابن جريج لم يلق ابن عباس، وكنا قد صححناه في "المسند" - سهوًا - على شرط البخاري، فيستدرك من هنا.
علّت / فنی نکتہ: ابن جریج کی عکرمہ عن ابن عباسؓ والی روایت منقطع ہے کیونکہ ابن جریج کی ملاقات ابن عباسؓ سے نہیں ہوئی۔
توضیح: ہم نے "مسند احمد" میں سہو سے اسے بخاری کی شرط پر صحیح کہہ دیا تھا، یہاں اس کی اصلاح کی جاتی ہے۔
وقوله ﷺ: "هذا الموقف وكل عرفة موقف … " إلى آخره، روي أيضًا من حديث جابر، فقد أخرجه أحمد 22/ (14498)، وأبو داود (1937)، وابن ماجه (3048) من طريق أسامة بن زيد عن عطاء، ومسلم (1218) (149)، وأبو داود (1907 - 1909)، والنسائي (4037) من طريق جعفر بن محمد الصادق عن أبيه، وابن ماجه (3012) من طريق محمد بن المنكدر، ثلاثتهم (عطاء ومحمد الباقر ومحمد بن المنكدر) عن جابر، رفعه.
متابعات و شواہد: قول "یہ بھی وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے" حضرت جابرؓ کی مسند سے احمد، ابوداؤد اور مسلم وغیرہ میں مختلف طرق سے مروی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1760 سے ماخوذ ہے۔