حدیث نمبر: 1764
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصرٍ، قال: قُرئ على عبد الله بن وهب، أخبرك ابنُ جُريج، عن عطاء، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَرْمُلُ في السَّبْع الذي أفاض فيه. وقال عطاء: لا رَمَلَ فيه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طوافِ افاضہ کے سات چکروں میں رمل (پہلوانوں کی طرح تیز چال) نہیں کی۔ عطاء کہتے ہیں کہ اس طواف میں رمل نہیں ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1764] [ترقيم الشركة 1752]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. عطاء: هو ابن أبي رباح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2001)، وابن ماجه (3060)، والنسائي (4156) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2001)، ابن ماجہ (3060) اور نسائی (4156) نے عبداللہ بن وہب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والرمل - بفتحتين -: الهرولة، قال في "النهاية": وهو أن يهزَّ منكبيه ولا يسرع.
توضیح: "رمل" کا مطلب ہے ہرولہ کرنا (تیز چلنا)؛ 'النہایہ' کے مطابق اس سے مراد کندھے ہلا کر چلنا ہے، بہت زیادہ تیز دوڑنا نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1764 سے ماخوذ ہے۔