المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ باب: نبی ﷺ کا حجۃ الوداع میں خطبہ۔
حدیث نمبر: 1759
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا أبو بكر يحيى (1) بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني سُلَيم بن عامر، سمعت أبا أُمامةَ يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقولُ وهو يَخطُبُ الناسَ على ناقته الجَدْعاء في حَجَّة الوداع، يقول: "يا أيها الناس، أَطيعوا ربَّكم، وصلُّوا خَمْسَكم، وأدُّوا زكاةَ أموالِكم، وصومُوا شهرَكم، وأَطيعُوا ذا أمرِكم؛ تَدخُلوا جنةَ ربِّكم". قلتُ لأبي أُمامة: منذُ كم سمعتَ هذا الحديث؟ قال: سمعتُه وأنا ابنُ ثلاثين سنة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اپنے رب کی اطاعت کرو، اپنی پانچ وقت کی نمازیں ادا کرو، اپنے مالوں کی زکات دو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو؛ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے یہ حدیث کب سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ تب سنی تھی جب میں تیس سال کا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: أبو بكر بن يحيى، وهو خطأ، فهو يحيى بن جعفر بن الزبرقان، وأبو بكر كنيته، كما في مصادر ترجمته.
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "ابوبکر بن یحییٰ" لکھا ہے جو غلط ہے، یہ 'یحییٰ بن جعفر بن الزبرقان' ہیں اور ابوبکر ان کی کنیت ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (616)، وابن حبان (4563) من طريقين عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (616) اور ابن حبان (4563) نے زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22161) عن معاوية بن صالح، به. وانظر ما سلف برقم (19) و (1452).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22161) نے معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ پیچھے نمبر (19) اور (1452) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
فنی نکتہ: خطی نسخوں میں "ابوبکر بن یحییٰ" لکھا ہے جو غلط ہے، یہ 'یحییٰ بن جعفر بن الزبرقان' ہیں اور ابوبکر ان کی کنیت ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (616)، وابن حبان (4563) من طريقين عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (616) اور ابن حبان (4563) نے زید بن الحباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22161) عن معاوية بن صالح، به. وانظر ما سلف برقم (19) و (1452).
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22161) نے معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔ پیچھے نمبر (19) اور (1452) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1759 سے ماخوذ ہے۔