حدیث نمبر: 1762
أخبرنا أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيدٍ الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، أنَّ أبا سَلَمة حدّثه، أنَّ محمد بن عبد الله بن زيد حدّثه: أنَّ أباه شَهِدَ النبيَّ ﷺ عند المَنْحَر هو ورجلٌ من الأنصار، فحَلَقَ رسولُ الله ﷺ رأسَه في ثوبِه، فأعطاه فقَسَمَ منه على رجالٍ، وقلَّم أظفارَه فأعطاه صاحبَه. قالوا: فإنه عندنا مخضوبٌ بالحِنّاء والكَتَم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا محمد بن عبد اللہ بن زید اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ایک انصاری شخص نبی کریم ﷺ کے پاس قربان گاہ (منحر) میں حاضر تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر مبارک کے بال ایک کپڑے میں منڈوائے، پھر وہ بال انہیں دے دیے اور انہوں نے اس میں سے کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیے، اور آپ ﷺ نے اپنے ناخن مبارک تراشے اور وہ اپنے ساتھی کو عطا فرما دیے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ بال ہمارے پاس محفوظ ہیں جنہیں مہندی اور کتم (خضاب) سے رنگا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،موسى بن إسماعيل: هو التبوذكي، وأبان بن يزيد: هو العطار، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن، وصحابيه عبد الله بن زيد: هو ابن عبد ربه.» [ترقيم الرساله 1762] [ترقيم الشركة 1750]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. موسى بن إسماعيل: هو التبوذكي، وأبان بن يزيد: هو العطار، وأبو سلمة: هو ابن عبد الرحمن، وصحابيه عبد الله بن زيد: هو ابن عبد ربه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: موسیٰ بن اسماعیل سے مراد التبوذکی، ابان بن یزید سے العطار، ابوسلمہ سے ابن عبدالرحمن اور صحابی عبداللہ بن زید سے مراد ابن عبدربہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16474) و (16475) من طريقين عن أبان بن يزيد، بهذ الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (26/16474، 16475) نے ابان بن یزید کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والكَتَم، بالتحريك: نبات يخلط مع الوَسْمة للخِضاب.
توضیح: "کتم" ایک پودا ہے جسے خضاب (رنگنے) کے لیے "وسمہ" کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1762 سے ماخوذ ہے۔