١٦٢٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن سليمان ابن يسار أن (هبارًا) (١) رجلًا من أهل الشام قال: قدمت على عمر بن الخطاب وهو ينحر البدن في دار (المنحر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھبار فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ قربان گاہ میں اونٹ قربان کر رہے تھے۔
١٦٢٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال: المنحر بمكة ولكنها (نزهت) (١) عن الدماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں ذبح کیا جائے گا، لیکن اس کے خون سے دور ہٹ جائے گا، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا آپ کہاں ذبح کرتے ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی قیام کی جگہ میں۔
١٦٢٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه أنه كان ينحر بدنته في رحله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الأسود اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں ذبح فرماتے ۔
١٦٢٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد (بن الحارث) (١) عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان ينحر في المنحر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں قربانی فرماتے ، حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربان گاہ میں۔
١٦٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد عن عبيد اللَّه بن عمر أن سالمًا كان ينحر في أهله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اپنے اھل کے پاس ذبح فرماتے ۔
١٦٢٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) أسامة عن هشام عن الحسن وعطاء قالا: (ينحر) (٢) البدنة حيث تيسر عليه من منى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ منیٰ میں جس جگہ آسانی ہو وہاں ذبح کیا جائے گا۔
١٦٢٤٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة عن عطاء عن جابر قال: قال ﷺ: "منى كلها منحر، كل فجاج مكة طريق ومنحر] (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منیٰ تمام کا تمام قربان گاہ ہے، اور مکہ کا ہر کشادہ راستہ قربان گاہ ہی کا راستہ ہے۔
١٦٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن (مختار بن سعد) (١) قال: رأيت أبا جعفر نحر بدنات بمنى بالمنحر ولم (يعرف) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر کو دیکھا کہ انہوں نے منیٰ کے قربان گاہ میں اونٹوں کو ذبح کیا، اور ان کو عرفات لے کر نہ گئے۔
١٦٢٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن (زيد) (١) بن السائب قال: رأيت خارجة بن (زيد) (٢) ينحر في منزله بمنى، ولم ينحر (بالمنحر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن السائب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت خارجہ بن زید کو دیکھا کہ انہوں نے منیٰ میں اپنی جگہ پر قربانی کی، قربان گاہ میں قربانی نہ کی۔
١٦٢٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن خالد بن أبي بكر قال: رأيت عبيد اللَّه بن عبد اللَّه ينحر في المنحر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ کو دیکھا آپ نے قربان گاہ میں قربانی فرمائی۔
١٦٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس أنه كان ينحر (بمكة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ میں ذبح کیا کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ میں ذبح فرماتے ۔
١٦٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا [أبو بكر (قال: حدثنا) (١) ابن فضيل عن ليث عن ابن (سابط) (٢) قال: ذبح إبراهيم الخليل خلف العقبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ ابراہیم جو اللہ کے خلیل ہیں انھوں نے گھاٹی کے پیچھے قربانی کی تھی۔
١٦٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج قال: قلت لعطاء: أين أنحر هديي بأعلى مكة (أو في أسفلها؟) (١) قال: نعم، قلت: بالأبطح؟ قال: نعم، قلت: في بيتي؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ میں قربانی کہاں پر کروں ؟ آپ نے فرمایا مکہ مکرمہ اوپر والی جانب، میں نے عرض کیا نیچے کی طرف کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے عرض کیا کہ مقام الابطح میں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، میں نے عرض کیا اور گھر میں ؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔
١٦٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن ليث عن نافع عن ابن عمر أنه كان ينحر هديه خلف العقبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھاٹی کے پیچھے قربانی کے جانور کو ذبح فرمایا۔
١٦٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش عن زيد بن علي عن أبيه عن عبيد اللَّه بن أبي رافع (عن أبيه) (١) عن علي عن النبي ﷺ قال: "منى كلها منحر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منیٰ سارے کا سارا قربان گاہ ہے۔