١٥٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: جزاء (واحد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سب پر ایک ہی جزاء آئے گی۔
١٥٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم عن الشعبي قال: جزاء (واحد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی بھی یہی فرماتے ہیں۔
١٥٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم قال: إن اشتركوا فلم يفده أصحابه فعليه الفداء كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر وہ سب اس شکار میں شریک ہوں اور اس کے ساتھی فدیہ ادا نہ کریں تو اس ایک پر تمام فدیہ لازم ہے۔
١٥٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) عبد السلام عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد قالوا: جزاء (واحد) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ایک ہی جزاء سب پر لازم ہے، اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں اگر سب نے اس میں سے کھالیا تو پھر ہر ایک پر الگ الگ جزاء لازم ہے۔
١٥٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن (سالم) (١) عن سعيد قال: (على) (٢) كل واحد منهم جزاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ ہر ایک پر الگ الگ جزاء لازم ہے۔
١٥٩٣٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن الشعبي قال: على كل واحد منهم جزاء] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی بھی یہی فرماتے ہیں۔
١٥٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (جرير) (١) عن مغيرة (وابن شبرمة) (٢) عن الشعبي قال: ((إذا) (٣) اشتركوا، فعلى) (٤) كل واحد منهم جزاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر سارے شکار میں شریک ہوں تو ہر ایک پر جزاء لازم ہے۔
١٥٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن ليث عن عطاء قال: إن أكلا منه ⦗٥٤٢⦘ فعلى كل واحد (منهما) (١) جزاء، (كان) (٢) لم يأكلا فعليهما جزاء (واحد) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر اس میں سے کھالیا تو پھر ہر ایک پر جزاء لازم ہے، اور اگر اس میں سے نہ کھایا تو پھر ان دونوں پر ایک ہی جزاء لازم ہے۔
١٥٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج قال: سألت أبا جعفر وعطاء عن القوم يشترهون في الصيد وهم محرمون (فقالا) (١): جزاء واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر اور حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ اگر کچھ محرم لوگ مل کر شکار کرلیں ؟ آپ نے فرمایا سب پر ایک جزاء لازم آئے گی۔
١٥٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن ليث عن عطاء قال: إذا اشترك الرجلان في الصيد فكفارة واحدة، وإن أكلا فعلى كل واحد منهما جزاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمی مل کر کوئی شکار کرلیں تو ان پر ایک ہی کفارہ لازم ہے اور اگر وہ اس میں سے کھا لیں تو پھر ہر ایک پر الگ الگ کفارہ لازم ہے۔
١٥٩٣٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن يونس عن الحسن قال: على كل إنسان منهم جزاء] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص پر کفارہ لازم ہے۔
١٥٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عمن حدثه عن ابن عمر أنه سئل عن (قوم) (١) من المشاة قتلوا صيدا قال: عليهم جزاء (واحد) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ اگر پیدل چلنے والی جماعت شکار کرلیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ان سب پر ایک ہی جزاء لازم ہے۔
١٥٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: كان يقول إذا أصاب اثنان صيدا فحكو (مة) (١) واحدة عليهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر دو آدمی مل کر کوئی شکار کرلیں تو اس کی جزاء دونوں پر ایک ہی لازم ہے۔
١٥٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن ابن شبرمة عن الشعبي قال: على كل إنسان منهم جزاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہر ایک پر الگ الگ جزاء لازم ہے، اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایک ہی جزاء دونوں کی طرف سے کافی ہوجائے گی، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی کے قول کا حضرت حارث سے ذکر فرمایا، آپ نے فرمایا کہ صحیح قول وہی ہے جو حضرت حماد نے فرمایا ہے۔