کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص رکے بغیر مزدلفہ سے چلا جائے تو اس پر قربانی لازم ہے
١٥٩١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سلام أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم في رجل مر بجمع وهو لا يرى أن بها موقفا حتى أتى منى قال: (يهريق) (١) لذلك دما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو مزدلفہ سے چلا جائے اور اس کا خیال ہو کہ یہاں نہیں ٹھہرنا اور وہ منیٰ آجائے تو اس پر قربانی لازم ہے۔
١٥٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد السلام) (١) (٢) عن مغيرة عن إبراهيم في من جهل أن يبيت بجمع، قال: (يهريق) (٣) دمًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو اس بات سے لا علم ہو کہ رات مزدلفہ میں گزارنی ہے تو اس پر قربانی لازم ہے۔
١٥٩٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن يحيى بن سعيد عن عطاء، قال: سمعته يقول: من رهق عن جمع فلم ينزلها (أهراق) (١) لذلك دمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدلفہ میں رکے بغیر چلا جائے (وقت کی تنگی کی وجہ سے) وہ اس کے بدلے قربانی کرے گا۔
١٥٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي السفر عن الشعبي قال: من لم يقف بجمع جعلها عمرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدلفہ میں نہ ٹھہرے وہ اس کو عمرہ بنا دے۔
١٥٩٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: من لم يقف بجمع، فلا حج له ويحج من قابل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدلفہ میں نہ ٹھہرے اس کا حج نہ ہوا وہ آئندہ سال دوبارہ حج کرے۔