کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: جن کا نام یثربی ہے (یہ بھی کہا گیا: یثربی بن عوف) — سیدنا ابورمثہ تیمی رضی اللہ عنہ، تیم الرباب سے (آپ کے نام میں اختلاف ہے: حبیب بن حبان بن عامر بن عبدقیس، حبان بن وہب، یا رفاعہ بن یثربی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ يَقُولُ: أَبُو رِمْثَةَ حَبِيبُ بْنُ حَبَّانَ
ترجمہ
محمد بن عبداللہ حضرمی کہتے ہیں: میں نے محمد بن عبداللہ بن نمیر کو یہ کہتے سنا: ابورمثہ کا نام حبیب بن حبان ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18916
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 277، حدیث 712
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمُونَ فِي دَمٍ وَهُوَ يَقُولُ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ هَذَا مَعَكَ يَا أَبَا رِمْثَةَ؟» ، فَقُلْتُ: ابْنِي، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» فَنَظَرْتُ، فَإِذَا فِي نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلُ بَعْرَةِ الْبَعِيرِ أَوْ بَيْضَةِ الْحَمَّامِ فَقُلْتُ: أَلَا أُدَاوِيكَ مِنْ هَذَا؟ فَأَنَا أَهْلُ بَيْتٍ يَتَطَبَّبُ، فَقَالَ: «يُدَاوِيهَا الَّذِي وَضَعَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے پاس بنو ربیعہ کے کچھ لوگ ایک خون کے مقدمے میں جھگڑا کر رہے تھے، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر اپنے باپ پر، پھر اپنی بہن پر اور اپنے بھائی پر، پھر جو تمہارے قریب تر ہو اسی پر۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورمثہ! تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرا بیٹا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ میں نے دیکھا تو ان کے مونڈھے کی ہڈی کے پاس اونٹ کی مینگنی یا کبوتر کے انڈے جیسی ایک چیز تھی۔ میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کا اس کا علاج نہ کروں؟ میں تو طبیبوں کے گھرانے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا علاج وہی کرے گا جس نے اسے پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 278، حدیث 713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ لِي أَبِي: هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ لِي، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا هُوَ بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ جَلَسَا يَتَحَدَّثَانِ سَاعَةً، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي: «ابْنُكَ هَذَا؟» قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «حَقًّا» قَالَ: حَقًّا، أَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي، وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] وَرَأَى أَبِي مِثْلَ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ أَفَلَا أُعَالِجُهَا؟، فَقَالَ: «مَهْلًا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ...تو وہ ایسے انسان تھے جن کے بال کندھوں تک تھے، ان میں مہندی کا اثر تھا، اور ان پر دو سبز چادریں تھیں۔ میرے والد نے انہیں سلام کیا، پھر دونوں کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سچ کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہوں، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے، میری اپنے والد سے مشابہت ثابت ہونے اور والد کی مجھ پر قسم کھانے کی وجہ سے، پھر فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورۃ الانعام: 164] اور میرے والد نے آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان ایک ابھار جیسی چیز دیکھی، تو انہوں نے کہا: میں تو ماہر طبیبوں میں سے ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہنے دو، اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18918
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 279، حدیث 714
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِهِ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ مَا بِظَهْرِكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ، قَالَ: «أَنْتَ رَفِيقٌ، وَاللهُ الطَّبِيبُ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: «مَنْ ذَا مَعَكَ؟» قَالَ: ابْنِي، أَشْهَدُ لَكَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ» وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدْعَ الْحِنَّاءِ "
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، میرے والد نے آپ ﷺ کی پشت پر جو نشان تھا اسے دیکھا تو عرض کیا: مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی پشت کے اس نشان کا علاج کروں، میں طبیب ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو نرم دل ہو، طبیب تو اللہ ہے۔“ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! تم اس پر کوئی جرم نہیں کرو گے اور نہ یہ تم پر کوئی جرم کرے گا۔“ اور انہوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر مہندی کا اثر دیکھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18919
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 279، حدیث 715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنٌ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بِفِنَاءِ بَيْتِهِ وَعَلَيْهِ لِمَّةٌ فِيهَا رَدْعٌ بِحِنَّاءٍ فَقَالَ لَهُ أَبِي فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور میرے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، تو آپ ﷺ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے تھے، آپ ﷺ کے بال کندھوں تک تھے جن میں مہندی کا اثر تھا۔ میرے والد نے آپ ﷺ سے بات کی - اور اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18920
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 279، حدیث 716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رِمْثَةَ، قَالَ: جِئْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ابْنُكَ هَذَا؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَتُحِبُّهُ؟ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18921
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 280، حدیث 717
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنِّي طَبِيبٌ أَفَلَا أَبُطُّهَا؟، قَالَ: «طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، میں نے آپ ﷺ کے مونڈھے پر سیب جیسی ایک چیز دیکھی، تو میرے والد نے آپ ﷺ سے کہا: میں طبیب ہوں، کیا میں اسے چیر نہ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18922
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 280، حدیث 718
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ: «ابْنُكَ هَذَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18923
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 281، حدیث 719
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، حَدَّثَنِي أَبِي إِيَادٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي: أَتَدْرِي مَنْ هَذَا؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ رَأَيْتُ ذَاكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا هُوَ بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ جَلَسَا فَتَحَدَّثَا سَاعَةً، ثُمَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي: «ابْنُكَ هَذَا؟» قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: «حَقًّا» قَالَ: " أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ تَثْبِيتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] ، ثُمَّ نَظَرَ أَبِي إِلَى مِثْلِ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ أَفَأُعَالِجُهَا؟، قَالَ: «لَا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ...تو وہ ایسے انسان تھے جن کے بال کندھوں تک تھے، ان میں مہندی کا اثر تھا، اور ان پر دو سبز چادریں تھیں۔ میرے والد نے انہیں سلام کیا، پھر دونوں بیٹھ کر کچھ دیر باتیں کرتے رہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سچ کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے، میری اپنے والد سے مشابہت ثابت ہونے اور والد کی مجھ پر قسم کھانے کی وجہ سے، پھر فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورۃ الانعام: 164] پھر میرے والد نے آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان ابھار جیسی چیز دیکھی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو ماہر طبیبوں میں سے ہوں، کیا میں اس کا علاج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18924
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 281، حدیث 720
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: سَمِعْتُ إِيَادَ بْنَ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ مَعَ أَبِي، وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ لِي: أَرَأَيْتَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ؟ ذَاكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، أَوْ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ وَبِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا ابْنُكَ» قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: «لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»
ترجمہ
...کعبہ؟ یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں، تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی۔ آپ ﷺ پر دو سبز کپڑے، یا دو سبز چادریں تھیں اور آپ ﷺ پر مہندی کا اثر تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18925
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 282، حدیث 721
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: «انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهِ رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس گیا، تو آپ ﷺ کے بال کندھوں تک تھے، ان میں مہندی کا اثر تھا اور آپ ﷺ پر دو سبز کپڑے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18926
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 282، حدیث 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي قِبَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ تَلَقَّانِي فَقَالَ أَبِي: تَدْرِي مَنْ هَذَا؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَكُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، قَالَ: وَإِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ لِأَبِي: «مَنْ هَذَا الَّذِي مَعَكَ؟» قَالَ: ابْنِي وَاللهِ حَقًّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقْتَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» وَتَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤]
ترجمہ
...میں سمجھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ دوسرے لوگوں جیسے نہیں ہوں گے۔ کہتے ہیں: تو وہاں ایک ایسے آدمی تھے جن کے بال کندھوں تک تھے، ان میں مہندی کا اثر تھا اور ان پر دو سبز چادریں تھیں، گویا میں اب بھی ان کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ سچ مچ میرا بیٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ میرے والد کی مجھ پر قسم کھانے سے ہنس پڑے، پھر فرمایا: ”تم نے سچ کہا، خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورۃ الانعام: 164]
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18927
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 282، حدیث 723
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ تَيْمِ الرَّبَابِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنِي، فَقُلْتُ لِابْنِي لَمَّا رَأَيْتُهُ: هَذَا نَبِيُّ اللهِ، فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ - وَكَانَ وَالِدِي طَبِيبًا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ أَطِبَّاءَ، فَأَرِنِي ظَهْرَكَ، فَإِنْ كَانَ سِلْعَةٌ أَبُطُّهَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَخْبَرْتُكَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ إِنْسَانٍ أَعْلَمَ بِجُرْحٍ أَوْ جِرَاحٍ مِنِّي، قَالَ: «لَا طَبِيبَ إِلَّا اللهُ» وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، وَلَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ "، فَقَالَ: «ابْنُكَ هَذَا؟» ، قُلْتُ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: «مِنْ نَفْسِكَ؟» قُلْتُ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»
ترجمہ
...مجھے اپنی پشت دکھائیں، اگر یہ کوئی رسولی ہوئی تو میں اسے چیر دوں گا، اور اگر کچھ اور ہوا تو میں آپ کو بتا دوں گا، کیونکہ زخموں کے بارے میں مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی انسان نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طبیب تو صرف اللہ ہی ہے۔“ آپ ﷺ پر دو سبز چادریں تھیں، اور آپ ﷺ کے بالوں میں سفیدی آ چکی تھی اور آپ ﷺ کی سفیدی سرخی مائل تھی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صلب سے؟“ میں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18928
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 283، حدیث 724
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي هِيَ الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ، ثُمَّ أُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ» ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذِهِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلَتْ فُلَانًا، فَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، فرما رہے تھے: ”دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے، پہلے اپنی ماں پر، پھر باپ پر، پھر بہن اور بھائی پر، پھر جو قریب تر ہو اس پر خرچ کرو۔“ اتنے میں بنو یربوع کے کچھ لوگ آئے اور عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ! فلاں شخص کو بنو یربوع نے قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی جان کسی دوسری جان کا جرم نہیں اٹھائے گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18929
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 283، حدیث 725
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا أَبُو سُفْيَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»
ترجمہ
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ کے بال کندھوں تک تھے اور مہندی اور کتم (ایک رنگ دار بوٹی) سے رنگے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18930
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 284، حدیث 726
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَثْوِيةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو رِمْثَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا وَضَحَ خَدَّيْهِ»
ترجمہ
ازرق بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز پڑھی، پھر اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا، یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18931
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 284، حدیث 727
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ فِي مُصَلَّانَا الْعَصْرَ وَمَعَنَا رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو رِمْثَةَ قَامَ الرَّجُلُ يَشْفَعُ فَنَظَرَ أَبُو رِمْثَةَ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينٍ وَيَسَارٍ حَتَّى رَأَيْنَا وَضَحَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ لَيَشْفَعَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ، فَإِنَّهُ لَنْ يُهْلِكَ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ»
ترجمہ
...پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ، اہلِ کتاب کو صرف اسی وجہ سے ہلاکت میں ڈالا گیا کہ ان کی نماز میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی نگاہ اس کہنے والے کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”اے ابن خطاب! اللہ نے تمہارے ذریعے حق بات کہلوائی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18932
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 284، حدیث 728