حدیث نمبر: 18919
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِهِ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ مَا بِظَهْرِكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ، قَالَ: «أَنْتَ رَفِيقٌ، وَاللهُ الطَّبِيبُ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: «مَنْ ذَا مَعَكَ؟» قَالَ: ابْنِي، أَشْهَدُ لَكَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ» وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدْعَ الْحِنَّاءِ "
ترجمہ

سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، میرے والد نے آپ ﷺ کی پشت پر جو نشان تھا اسے دیکھا تو عرض کیا: مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی پشت کے اس نشان کا علاج کروں، میں طبیب ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو نرم دل ہو، طبیب تو اللہ ہے۔“ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! تم اس پر کوئی جرم نہیں کرو گے اور نہ یہ تم پر کوئی جرم کرے گا۔“ اور انہوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر مہندی کا اثر دیکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18919
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 279، حدیث 715