المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه يثربي ويقال: يثربي بن عوف أبو رمثة التيمي تيم الرباب، وقد اختلف في اسمه، فقيل حبيب بن حبان بن عامر بن عبد قيس، وقيل حبان بن وهب، وقيل رفاعة بن يثربي حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال: سمعت محمد بن عبد الله بن نمير يقول: أبو رمثة حبيب بن باب: جن کا نام یثربی ہے (یہ بھی کہا گیا: یثربی بن عوف) — سیدنا ابورمثہ تیمی رضی اللہ عنہ، تیم الرباب سے (آپ کے نام میں اختلاف ہے: حبیب بن حبان بن عامر بن عبدقیس، حبان بن وہب، یا رفاعہ بن یثربی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ فِي مُصَلَّانَا الْعَصْرَ وَمَعَنَا رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو رِمْثَةَ قَامَ الرَّجُلُ يَشْفَعُ فَنَظَرَ أَبُو رِمْثَةَ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينٍ وَيَسَارٍ حَتَّى رَأَيْنَا وَضَحَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ، فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ لَيَشْفَعَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ، فَإِنَّهُ لَنْ يُهْلِكَ أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ»ازرق بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمارے ایک امام، جنہیں ابورمثہ کے نام سے پکارا جاتا تھا، ہمیں ہماری عبادت گاہ میں عصر کی نماز پڑھا رہے تھے، اور ہمارے ساتھ ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے نماز کی پہلی تکبیر پا لی تھی۔ جب ابورمثہ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص (فوراً) مزید نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، تو ابورمثہ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: میں نے یہ نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی تھی، اس وقت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے دائیں جانب اگلی صف میں کھڑے تھے، اور ایک شخص نے نماز کی پہلی تکبیر پا کر نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، پھر آپ ﷺ نے دائیں اور بائیں سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کے دونوں رخساروں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ ﷺ پلٹے اور لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، تو وہ شخص جس نے آپ ﷺ کے ساتھ پہلی تکبیر پائی تھی، (فوراً) مزید نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، تو عمر رضی اللہ عنہ اچانک اس کی طرف لپکے اور اس کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا، پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ، اہلِ کتاب کو صرف اسی وجہ سے ہلاکت میں ڈالا گیا کہ ان کی نمازوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی نگاہ اس کہنے والے کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”اے ابن خطاب! اللہ نے تمہارے ذریعے حق بات کہلوائی۔“