المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه يثربي ويقال: يثربي بن عوف أبو رمثة التيمي تيم الرباب، وقد اختلف في اسمه، فقيل حبيب بن حبان بن عامر بن عبد قيس، وقيل حبان بن وهب، وقيل رفاعة بن يثربي حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال: سمعت محمد بن عبد الله بن نمير يقول: أبو رمثة حبيب بن باب: جن کا نام یثربی ہے (یہ بھی کہا گیا: یثربی بن عوف) — سیدنا ابورمثہ تیمی رضی اللہ عنہ، تیم الرباب سے (آپ کے نام میں اختلاف ہے: حبیب بن حبان بن عامر بن عبدقیس، حبان بن وہب، یا رفاعہ بن یثربی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ لِي أَبِي: هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ لِي، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا هُوَ بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ جَلَسَا يَتَحَدَّثَانِ سَاعَةً، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي: «ابْنُكَ هَذَا؟» قَالَ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «حَقًّا» قَالَ: حَقًّا، أَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي، وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] وَرَأَى أَبِي مِثْلَ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ أَفَلَا أُعَالِجُهَا؟، فَقَالَ: «مَهْلًا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا»سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ...تو وہ ایسے انسان تھے جن کے بال کندھوں تک تھے، ان میں مہندی کا اثر تھا، اور ان پر دو سبز چادریں تھیں۔ میرے والد نے انہیں سلام کیا، پھر دونوں کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سچ کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: سچ کہہ رہا ہوں، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے، میری اپنے والد سے مشابہت ثابت ہونے اور والد کی مجھ پر قسم کھانے کی وجہ سے، پھر فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورۃ الانعام: 164] اور میرے والد نے آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان ایک ابھار جیسی چیز دیکھی، تو انہوں نے کہا: میں تو ماہر طبیبوں میں سے ہوں، کیا میں اس کا علاج نہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہنے دو، اس کا طبیب وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا۔“