المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه يثربي ويقال: يثربي بن عوف أبو رمثة التيمي تيم الرباب، وقد اختلف في اسمه، فقيل حبيب بن حبان بن عامر بن عبد قيس، وقيل حبان بن وهب، وقيل رفاعة بن يثربي حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال: سمعت محمد بن عبد الله بن نمير يقول: أبو رمثة حبيب بن باب: جن کا نام یثربی ہے (یہ بھی کہا گیا: یثربی بن عوف) — سیدنا ابورمثہ تیمی رضی اللہ عنہ، تیم الرباب سے (آپ کے نام میں اختلاف ہے: حبیب بن حبان بن عامر بن عبدقیس، حبان بن وہب، یا رفاعہ بن یثربی)
حدیث نمبر: 18928
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ هَارُونَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ تَيْمِ الرَّبَابِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنِي، فَقُلْتُ لِابْنِي لَمَّا رَأَيْتُهُ: هَذَا نَبِيُّ اللهِ، فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ - وَكَانَ وَالِدِي طَبِيبًا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ أَطِبَّاءَ، فَأَرِنِي ظَهْرَكَ، فَإِنْ كَانَ سِلْعَةٌ أَبُطُّهَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَخْبَرْتُكَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ إِنْسَانٍ أَعْلَمَ بِجُرْحٍ أَوْ جِرَاحٍ مِنِّي، قَالَ: «لَا طَبِيبَ إِلَّا اللهُ» وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، وَلَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ "، فَقَالَ: «ابْنُكَ هَذَا؟» ، قُلْتُ: إِيْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: «مِنْ نَفْسِكَ؟» قُلْتُ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»ترجمہ
...مجھے اپنی پشت دکھائیں، اگر یہ کوئی رسولی ہوئی تو میں اسے چیر دوں گا، اور اگر کچھ اور ہوا تو میں آپ کو بتا دوں گا، کیونکہ زخموں کے بارے میں مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی انسان نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طبیب تو صرف اللہ ہی ہے۔“ آپ ﷺ پر دو سبز چادریں تھیں، اور آپ ﷺ کے بالوں میں سفیدی آ چکی تھی اور آپ ﷺ کی سفیدی سرخی مائل تھی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صلب سے؟“ میں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“