حدیث نمبر: 18917
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمُونَ فِي دَمٍ وَهُوَ يَقُولُ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ هَذَا مَعَكَ يَا أَبَا رِمْثَةَ؟» ، فَقُلْتُ: ابْنِي، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» فَنَظَرْتُ، فَإِذَا فِي نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلُ بَعْرَةِ الْبَعِيرِ أَوْ بَيْضَةِ الْحَمَّامِ فَقُلْتُ: أَلَا أُدَاوِيكَ مِنْ هَذَا؟ فَأَنَا أَهْلُ بَيْتٍ يَتَطَبَّبُ، فَقَالَ: «يُدَاوِيهَا الَّذِي وَضَعَهَا»
ترجمہ

سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ کے پاس بنو ربیعہ کے کچھ لوگ ایک خون کے مقدمے میں جھگڑا کر رہے تھے، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر اپنے باپ پر، پھر اپنی بہن پر اور اپنے بھائی پر، پھر جو تمہارے قریب تر ہو اسی پر۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورمثہ! تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرا بیٹا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یہ تم پر کوئی جرم نہیں کرے گا اور نہ تم اس پر کوئی جرم کرو گے۔“ میں نے دیکھا تو ان کے مونڈھے کی ہڈی کے پاس اونٹ کی مینگنی یا کبوتر کے انڈے جیسی ایک چیز تھی۔ میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کا اس کا علاج نہ کروں؟ میں تو طبیبوں کے گھرانے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا علاج وہی کرے گا جس نے اسے پیدا کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 278، حدیث 713