حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَثْوَيَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ عَطِيَّةُ بْنُ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي، أَخُو أُمِّي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِي أَوَّلِ نُسُكِ هَذَا الْيَوْمِ - لِيَوْمِ النَّحْرِ - صَلَاةٌ، ثُمَّ النَّحْرُ بَعْدَ الصَّلَاةِ» فَمَشَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي عَتَاقٌ ابْنُ جَذَعَةَ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ لَحْمِ شَاتَيْنِ أَفَأَذْبَحُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»
ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے ماموں، میری والدہ کے بھائی، نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن — یعنی قربانی کے دن — کی سب سے پہلی عبادت نماز ہے، پھر نماز کے بعد قربانی ہے۔“ تو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف چل کر گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے، اور میرے پاس ایک عمدہ بکری کا ایک سال کا بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، کیا میں اسے ذبح کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تیرے بعد یہ کسی اور کی طرف سے کافی نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَرِيعٍ الْكُوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَمَضَيْتُ بِهِ إِلَى الْمَنْزِلِ فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: أَطْعِمِينَا مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَتِكِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأُضْحِيَةٍ إِنَّمَا هِي شَاةُ لَحْمٍ إِنَّمَا الْأُضْحِيَّةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عِنْدَنَا رَبِيبَةً لَنَا جَذَعَةً أَفَأُضَحِّي بِهَا؟، قَالَ: «نَعَمْ، وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے قربانی کے دن نبی کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور آپ ﷺ کو گھر لے گیا، تو میں نے باندی سے کہا: ہمیں اپنی قربانی کے گوشت میں سے کھلاؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قربانی نہیں ہے، یہ محض گوشت کی بکری ہے، قربانی تو نماز کے بعد ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس ہماری ایک پلی ہوئی، ایک سال کی بکری ہے، کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تیرے بعد یہ کسی اور کی طرف سے کافی نہ ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: ذَبَحْتُ شَاةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ عَجَّلَ شَاةً ثُمَّ ذَكَرَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي عَجَّلْتُ شَاةَ الصَّبِيِّ لَنَا؟، فَقَالَ: «قَبْلَ الصَّلَاةِ» ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ» ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً هِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّةٍ تُجْزِئُ عَنِّي؟، قَالَ: «نَعَمْ، وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ اپنے ماموں سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نماز سے پہلے ایک بکری جلدی ذبح کر لی، پھر اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ہمارے بچے کی بکری جلدی ذبح کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز سے پہلے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ گوشت کی بکری ہے۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کی بکری ہے جو مجھے بڑی عمر کی بکری سے بھی زیادہ محبوب ہے، کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن تیرے بعد یہ کسی اور کی طرف سے کافی نہیں ہو گی۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ضَحَّى قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي خَرَجْتُ بِضَحِيَّتِي إِلَى الْمُصَلَّى فَذَبَحْتُهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَحِّ بِغَيْرِهَا فَالْتَمَسْتُ مِنَ الْمَعْزِ فَلَمْ أَجِدْ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، میں نے عرض کیا: میں اپنی قربانی لے کر عیدگاہ گیا اور نماز سے پہلے اسے ذبح کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بدلے کوئی اور قربانی کر۔“ میں نے بکری تلاش کی تو نہ ملی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں بھیڑ کے ایک سال کے بچے کی قربانی کروں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟، قَالَ: «أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ وَأقْتُلُهُ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے ماموں سے ملا، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو میں نے پوچھا: کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کی گردن ماروں اور اسے قتل کروں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُبَارَكٍ الْكُوفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بُرْدَةَ وَمَعَهُ لِوَاءٌ، فَقُلْتُ: إِلَى أَيْنَ؟، قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَجِيئُهُ بِرَأْسِهِ»
ترجمہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو میں نے پوچھا: کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى الْقَبَائِلَ يَدْعُو لَهُمْ وَتَرَكَ قَبِيلَةً لَمْ يِأْتِهِمْ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَفَتَّشُوا مَتَاعَ صَاحِبٍ لَهُمْ فَوَجَدُوا قِلَادَةً فِي بَرْدَعَةِ رَجُلٍ مِنْهُمْ غَلَّهَا فَرَدُّوهَا فَأَتَاهُمْ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ قبیلوں کے پاس تشریف لے گئے، ان کے لیے دعا فرمائی، اور ایک قبیلے کو چھوڑ دیا جس کے پاس آپ ﷺ نہیں گئے۔ انہوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی کا سامان تلاش کیا اور ان میں سے ایک آدمی کے پالان میں ایک ہار پایا جو اس نے چرا لیا تھا۔ انہوں نے وہ واپس کر دیا، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَمِيعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ حقیر ابن حقیر کے قبضے میں چلی جائے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا صَلَّى عَلَيَّ عَبْدٌ مِنْ أُمَّتِي صَلَاةً صَادِقًا بِهَا فِي قَلْبِ نَفْسِهِ إِلَّا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَشْرَ صَلَوَاتٍ، وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سيئاتٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جو بندہ اپنے دل کی سچائی کے ساتھ مجھ پر درود بھیجتا ہے، اللہ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے، اس کے دس درجات بلند کرتا ہے، اور اس کی دس برائیاں مٹا دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَضْرِبَ أَحَدًا فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطْ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو دس کوڑوں سے زیادہ مارے، سوائے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے وقت۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”دس کوڑوں سے زیادہ نہیں مارا جائے گا سوائے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْمَعَالِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا جَلْدَ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَارُودِ مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ الصُّوفِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْلَدُ عَشَرَةُ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس کوڑے بھی نہیں لگائے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغِيثٍ أَوْ مُغِيثٍ - شَكَّ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ -، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنِينَ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ بَعْدَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کاہنوں میں سے ایک آدمی نکلے گا جو قرآن کا اس طرح مطالعہ کرے گا کہ اس کے بعد کوئی اس طرح مطالعہ نہیں کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَوْ عُمَيْرِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ صحابی تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! سب سے بہتر کمائی کون سی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جَمَيعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ كَسْبِ الرَّجُلِ وَلَدُهُ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی سب سے بہتر کمائی اس کی اولاد ہے، اور ہر نیک تجارت بھی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ بِطَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخْرَجَ عَلَى يَدِهِ طَعَامًا رَدِيئًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ ﷺ کا گزر کھانے کے ایک ڈھیر پر ہوا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو ہاتھ پر خراب کھانا نکلا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ، (سَلْمٍ) الرَّازِيُّ قَالَ: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اشْرَبُوا فِي الظُّرُوفِ وَلَا تَسْكَرُوا»
ترجمہ
سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”برتنوں میں پیو، لیکن نشہ نہ کرو۔“